ہوم » نیوز » وطن نامہ

چین کے ساتھ گیارہویں دور کی بات چیت ، ہندوستان نے لداخ کے کئی علاقوں سے فوج کی واپسی پر دیا زور

India-China Standoff: وزارت دفاع نے بتایا کہ فریقین نے موجودہ سمجھوتوں اور پروٹوکال کے مطابق فوری اثر سے بچے ہوئے معاملات کو حل کرنے کی ضرورت سے اتفاق ظاہر کیا ۔

  • Share this:
چین کے ساتھ گیارہویں دور کی بات چیت ، ہندوستان نے لداخ کے کئی علاقوں سے فوج کی واپسی پر دیا زور
چین کے ساتھ گیارہویں دور کی بات چیت ، ہندوستان نے لداخ کے کئی علاقوں سے فوج کی واپسی پر دیا زور ۔ علامتی تصویر ۔

نئی دہلی : ہندوستان نے چین کے ساتھ گیارہویں دور کی بات چیت میں مشرقی لداخ کے ہاٹ اسپرنگ ، گوگرا اور دوپسانگ جیسے اختلافات والے باقی حصوں سے فوج کی واپسی کے عمل کو جلد آگے بڑھانے پر زور دیا ۔ وزارت دفاع نے کہا کہ ہندوستان اور چین کور کمانڈر سطح کی گیارہویں میٹنگ نو اپریل کو چوشول ۔ مولدو سرحدی میٹنگ مقام پر منعقد کی گئی تھی ۔ دونوں فریقوں نے مشرقی لداخ میں ایل اے سی سے وابستہ معاملات کے حل کیلئے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔


وزارت دفاع نے بتایا کہ فریقین نے موجودہ سمجھوتوں اور پروٹوکال کے مطابق ایک فوری اثر سے بچے ہوئے معاملات کو حل کرنے کی ضرورت سے اتفاق ظاہر کیا ۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ مشترکہ طور پر زمین پر استحکام بنائے رکھنے ، کسی بھی نئے واقعہ سے بچنے اور سرحدی علاقوں میں مشترکہ طور پر امن بنائے رکھنے کیلئے فریقین متفق ہوئے ہیں ۔


فروری میں ہوئی تھی دسویں دور کی بات چیت


دسویں دور کی فوجی گفتگو 20 فروری کو ہوئی تھی ۔ اس سے دو دن پہل دونوں ممالک کی افواج پینگونگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں سے اپنے اپنے فوجیوں اور ہتھیاروں کو پیچھے ہٹانے پر راضی ہوئی تھیں ۔ وہ گفتگو تقریبا 16 گھنٹوں تک چلی تھی ۔ جمعہ کو شروع ہوئی گفتگو میں ہندوستانی نمائندہ وفد کی قیادت لیہہ میں واقع چودہویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پی جی کے مینن نے کی ۔

گزشتہ ماہ بری فوج کے سربراہ جنرل ایم ایم نرونے نے کہا تھا کہ پینگونگ جھیل کے آس پاس کے علاقہ سے فوجیوں کے پیچھے ہٹنے سے ہندوستان کیلئے خطرہ کم تو ہوا ہے ، لیکن پوری طرح ختم نہیں ہوا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 10, 2021 08:43 PM IST