ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دیوالی سے پہلے حل ہوسکتا ہے لداخ تنازع ، ہندوستان اور چین میں ڈس انگیجمنٹ پر اتفاق رائے قائم : رپورٹ

لداخ کے چوشول میں چھ نومبر کو ہندوستان اور چین کی افواج کے درمیان آٹھویں راونڈ کی بات چیت ہوئی تھی ، جس میں تین فیز کے منصوبوں سے دونوں ممالک نے اتفاق ظاہر کیا تھا ۔ پہلے مرحلہ میں پینگونگ جھیل علاقہ کو پہلے ہفتہ میں خالی کیا جائے گا ۔ ٹینک اور فوجیوں کو واپس بھیجا جائے گا ۔

  • Share this:
دیوالی سے پہلے حل ہوسکتا ہے لداخ تنازع ، ہندوستان اور چین میں ڈس انگیجمنٹ پر اتفاق رائے قائم : رپورٹ
دیوالی سے پہلے حل ہوسکتا ہے لداخ تنازع ، ہندوستان اور چین میں ڈس انگیجمنٹ پر اتفاق رائے قائم : رپورٹ ۔ (PTI)

مشرقی لداخ میں ہندوستان اور چین کے درمیان جاری سرحدی تنازع دیوالی سے پہلے حل ہوسکتا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان اور چین میں لداخ کے تنازع والی جگہوں سے افواج ہٹانے یعنی ڈس انگیجمنٹ کو لے کر اتفاق رائے قائم ہوگیا ہے ۔ اس کے تحت دونوں ممالک کی افواج اپریل مئی والی اپنی پرانی صورتحال پر لوٹ جائیں گی ۔ اس سلسلہ میں چھ نومبر کو چوشول میں کارپس کمانڈر لیول کی آٹھویں دور کی بات چیت میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا ۔ حالانکہ اس معاملہ پر ابھی تک ہندوستانی حکومت یا ہندوستانی فوج کی طرف سے کوئی آفیشیل بیان نہیں دیا گیا ہے ۔ چین کی طرف سے بھی کوئی بیان نہیں آیا ہے ۔


دراصل لداخ کے چوشول میں چھ نومبر کو ہندوستان اور چین کی افواج کے درمیان آٹھویں راونڈ کی بات چیت ہوئی تھی ، جس میں تین فیز کے منصوبوں سے دونوں ممالک نے اتفاق ظاہر کیا تھا ۔ پہلے مرحلہ میں پینگونگ جھیل علاقہ کو پہلے ہفتہ میں خالی کیا جائے گا ۔ ٹینک اور فوجیوں کو واپس بھیجا جائے گا ۔ دوسرے فیز میں دونوٓں افواج پینگونگ علاقہ کے پاس سے ہر روز اپنے 30 فیصدی جوانوں کو ہٹائیں گی ۔ یہ عمل تین دنوں تک جاری رہے گا ۔ اس دوران چینی فوج فنگر 8 کے پاس واپس لوٹے گی ، تو وہیں ہندوستانی فوج اپنی دھان سنگھ تھاپا پوسٹ پر آئے گی ۔


وہیں تیسرے فیز میں ہندوستان اور چین کی فوج پینگونگ جھیل علاقہ کے ساوتھ علاقہ سے اپنی فوجیوں کو ہٹائیں گی ۔ اس کے ساتھ ہی چوشول ، ریجانگ لا کی جن پہاڑیوں پر کشیدگی کے وقت قبضہ کیا گیا تھا ، انہیں بھی خالی کیا جائے گا ۔ اس پورے عمل کی دونوں ہی افواج نگرانی کریں گی ، جس پر اتفاق رائے قائم ہوچکا ہے ۔


رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک افواج ہٹانے پر اس لئے بھی تیار ہیں ، کیونکہ فی الحال مشرقی لداخ میں چوٹیوں پر بھاری برف باری ہورہی ہے ۔ تقریبا پندرہ سولہ ہزار کی اونچائی پر درجہ حرارت منفی 45 ڈگری تک چلا جاتا ہے ۔ اس سے دونوں ممالک کی افواج کی پریشانی بڑھ سکتی ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ مشرقی لداخ کے پینگونگ جھیل کے علاقہ میں اپریل کے بعد سے ہی کشیدگی کی حالت برقرار ہے ۔ چینی فوج نے اس دوران کئی ہندوستانی پیٹرولنگ پوائنٹ پر قبضہ کیا تھا ، لیکن ہندوستانی جوانوں نے بھی چین کو جواب دیا ۔

وہیں 15 جون کو گلوان وادی میں چینی فوج کے ساتھ پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی ، جس میں ہندوستان کے 20 جوان شہید ہوگئے تھے ۔ چین کے بھی 43 جوانوں کے مارے جانے کی بات کہی گئی تھی ۔ حالانکہ چین نے آفیشیل ڈیٹا میں اپنے مارے گئے جوانوں کی تعداد پانچ بتائی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 11, 2020 03:00 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading