ہوم » نیوز » وطن نامہ

چین نے مئی سے ایل اے سی پر کی بڑی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی ، یہ سمجھوتہ کی خلاف ورزی : وزارت خارجہ

India China Tensions : وزارت خارجہ نے کہا کہ 1993 میں ہوئے سمجھوتہ کے تحت دونوں ممالک سرحد پر محدود تعداد میں ہی فوجیوں کی تعیناتی کرسکتے ہیں ۔

  • Share this:
چین نے مئی سے ایل اے سی پر کی بڑی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی ، یہ سمجھوتہ کی خلاف ورزی : وزارت خارجہ
چین نے مئی سے ایل اے سی پر کی بڑی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی ، یہ سمجھوتہ کی خلاف ورزی : وزارت خارجہ

لداخ میں گلوان وادی میں ہندوستان اور چین کے درمیان جاری رسہ کشی کے درمیان ہندوستانی وزارت خارجہ نے جمعرات کو پریس کانفرنس کی ۔ اس دوران وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے جانکاری دی کہ چین نے مئی سے ہی ایل اے سی کے پاس اپنے فوجیوں کی تعیناتی بڑھا دی ہے ۔ اس نے ایل اے سی پر بڑی تعداد میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی کرکے ہندوستان کے ساتھ اپنے سمجھوتہ کی خلاف ورزی کی ہے ۔


وزارت خارجہ نے کہا کہ 1993 میں ہوئے سمجھوتہ کے تحت دونوں ممالک سرحد پر محدود تعداد میں ہی فوجیوں کی تعیناتی کرسکتے ہیں ۔ ہندوستان نی ایل اے سی پر کبھی بھی جوں کی توں صورتحال کو بدلنے کی کوشش نہیں کی ۔ اے ایل سی پر چینی فریق کا رویہ موجودہ سمجھوتوں کے تئیں اس کے مکمل عدم احترام کی عکاسی کرتا ہے ۔ چین وہاں مئی کے شروعات سے ہی بڑی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی کررہا تھا ، ایسے میں ہندوستان کو جواب میں تعیناتی کرنی پڑی ۔ گلوان وادی جھڑپ کے بعد دونوں فریقوں نے علاقہ میں بڑی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی کی ۔ موجود صورتحال برقرار رہنے سے مستقبل میں مزید حالات خراب ہوں گے ۔


پریس کانفرنس کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے گلوان وادی میں ہندوستانی جوانوں کی شہادت کیلئے چین کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سفارتی اور فوجی دونوں سطح کے ذریعہ چین کی کارروائی پر اپنی مخالفت درج کرائی تھی ۔ ہم نے یہ واضح کیا کہ اس طرح کی کوئی بھی تبدیلی ہمارے لئے ناقابل قبول تھی ۔ دونوں ممالک کے درمیان چھ جون کو کو فوجی سطح پر گفتگو بھی ہوئی ، جس میں دونوں ممالک کے درمیان وہاں فوجیوں کو پیچھے کرنے پر اتفاق رائے قائم ہوا تھا ۔


انوراگ شریواستو نے کہا کہ دونوں فریق ایل اے سی پر احترام اور سمجھوتہ پر عمل کرنے کیلئے تیار تھے اور جوں کی توں صورتحال کو بدلنے کیلئے کوئی سرگرمی نہیں کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ چینی فریق نے گلوان وادی علاقہ میں ایل اے سی کے سلسلہ میں اس سمجھوتے کو پیچھے چھوڑ دیا اور ایل اے سے کے پار ڈھانچوں کی تعمیر کی کوشش کی ۔
First published: Jun 25, 2020 08:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading