ہوم » نیوز » وطن نامہ

دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی معاہدہ آر سی ای پی میں شامل نہیں ہوگا ہندوستان ، یہ ہیں وجوہات

وزیر اعظم نے اجلاس میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قدم اٹھاتے ہوئے یہ سوچنا چاہئے کہ قطار میں سب سے پیچھے کھڑے شخص کا اس سے کیا فائدہ ہوگا۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 04, 2019 08:13 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی معاہدہ آر سی ای پی میں شامل نہیں ہوگا ہندوستان ، یہ ہیں وجوہات
وزیر اعظم مودی ۔ فوٹو : رائٹرس / نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

ہندوستان نے جنوب مشرقی اور مشرقی ایشیا کے 16 ممالک کے درمیان آزاد تجارت کے علاوہ مجوزہ’ریجنل کمپری ہینسیو اکنامکس پارٹنر شپ‘( آرسي ای پي) معاہدہ کو اپنے لاکھوں لوگوں کی زندگی اور ذریعہ معاش کے لئے ناقص بتاتے ہوئے آج اس پر دستخط کرنے سے صاف انکار کر دیا۔


وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں تیسرے آرسي ای پي اجلاس میں دو ٹوک الفاظ میں ہندوستان کا فیصلہ سنا دیا۔ وزارت خارجہ میں سکریٹری ( مشرق) وجئے ٹھاکر سنگھ نے نامہ نگاروں کو یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اجلاس میں اس معاہدے پر دستخط نہ کرنے کے فیصلے کی اطلاع دے دی ہے۔ یہ فیصلہ موجودہ عالمی حالات اور معاہدے کی جانبداری اور توازن دونوں پر غور و خوض کے بعد لیا گیا ہے۔


انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اجلاس میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قدم اٹھاتے ہوئے یہ سوچنا چاہئے کہ قطار میں سب سے پیچھے کھڑے شخص کا اس سے کیا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں ہندوستان کی طرف سے اٹھائے گئے اہم مسائل کا کوئی حل نہیں نکل سکا ہے۔ ہمارا فیصلہ ملک کے کروڑوں لوگوں کی زندگی اور ذریعہ معاش سے منسلک ہے۔ معاہدے کے التزامات ان کے مفادات کے خلاف ہیں۔ لہذا موجودہ حالات میں ہندوستان آرسي ای پي میں شامل نہیں ہو رہا ہے۔


وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے کسانوں ، پیشہ وروں و صنعت کاروں کے ایسے فیصلوں میں حصہ داری ہوتی ہے۔ کام کرنے والے مزدور اور صارفین بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں جو ہندوستان کو ایک بڑی مارکیٹ اور زرعی بنیاد پر تیسری سب سے بڑی معیشت بناتے ہیں۔

وجئے ٹھاکر سنگھ نے نامہ نگاروں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ معاہدے میں شامل نہ ہونے کے وجوہات سے تمام فریق اچھی طرح آگاہ ہیں۔ ان کا کوئی حل نہیں نکلا۔ ہندوستان کو توقع تھی کہ بات چیت سے ایک منصفانہ اور متوازن نتیجہ نکلتا ، لیکن ہم نے پایا کہ ایسا نہیں ہو سکا۔ لہذا ہم نے اپنے قومی مفادات کو ذہن میں رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔
First published: Nov 04, 2019 08:13 PM IST