உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ISIS کو لے کر UN جنرل سکریٹری کی رپورٹ سے بھارت مایوس، اس بات کا ذکر نہ ہونے پر ظاہر کی تشویش

    اقوام متحدہ کی ISIS پر رپورٹ سے ہندوستان مایوس۔

    اقوام متحدہ کی ISIS پر رپورٹ سے ہندوستان مایوس۔

    اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی نے بدھ کو سلامتی کونسل کی بریفنگ میں ’دہشت گردانہ سرگرمیوں سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات‘پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی رپورٹ پر کہا، ہندوستان نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ لشکر طیبہ اور دیگر کالعدم دہشت گرد تنظیمیں بشمول جیش محمد کے درمیان گہرے تعلقات ہیں۔

    • Share this:
      اقوام متحدہ:ہندوستان نے آئی ایس آئی ایس(ISIS) پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی رپورٹ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جس میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں جیسے پاکستان(Pakistan) میں قائم لشکر طیبہ اور جیش محمد(JeM) کے درمیان قریبی روابط کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، جب کہ نئی دہلی نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

      اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی 14ویں رپورٹ ’آئی ایس آئی ایس کی جانب سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات اور اس سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کے لیے اقوام متحدہ کے تعاون‘ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ 15 اگست کو افغانستان میں سیکیورٹی کا منظرنامہ ڈرامائی طور پر بدل گیا، جب طالبان نے فوجی آپریشن کے بعد کابل سمیت پورے ملک پر قبضہ کرلیا۔

      آئی ایس آئی ایس کو لے کر کیا کہتی ہے رپورٹ؟
      رپورٹ کے مطابق، خوفناک دہشت گرد تنظیم داعش کابل میں خود کو’بنیادی ڈیٹرنس فورس‘ کے طور پر قائم کرنا چاہتی ہے اور پڑوسی وسطی اور جنوبی ایشیائی ممالک میں پھیل رہی ہے۔ طالبان اسے اپنے اہم مسلح خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

      اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی نے بدھ کو سلامتی کونسل کی بریفنگ میں ’دہشت گردانہ سرگرمیوں سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات‘پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی رپورٹ پر کہا، ہندوستان نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ لشکر طیبہ اور دیگر کالعدم دہشت گرد تنظیمیں بشمول جیش محمد کے درمیان گہرے تعلقات ہیں۔

      ہندوستان نے کیا پاکستان کی طرف اشارہ
      پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، ترومورتی نے کہا، ’یہ ضروری ہے کہ ہم اس بات کو نظر انداز نہ کریں کہ کس طرح کالعدم حقانی نیٹ ورک، اپنے سرپرست ملک کی حمایت سے، القاعدہ، آئی ایس آئی ایس-کے جیسی بڑی دہشت گرد تنظیموں کی نشوونما میں ملوث رہا ہے۔‘ انہوں نے کہا، ’حالانکہ، ان خدشات پر بار بار توجہ دلانے کے باوجود، سیکرٹری جنرل کی رپورٹ ایسے تعلقات پر روشنی ڈالنے میں ناکام رہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس رپورٹ کے مستقبل کے ورژن میں تمام رکن ممالک سے یکساں بنیادوں پر معلومات کو شامل کیا جائے گا اور اس کے مصنفین کی جانب سے ثبوت پر مبنی اور قابل اعتبار بینچ مارک کو اپنایا جائے گا۔‘ترومورتی نے مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کو تشویشناک قرار دیا، کیونکہ اس نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ افغانستان القاعدہ سمیت دیگر خطرناک دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: