مشن پانی: ملک میں دنیا کا صرف 4 فیصد پانی! جانیں کس خطرے کی آمد ہے

اترپردیش، مدھیہ پردیش، پنجاب، راجستھان، بہار اور مہاراشٹر کے کچھ حصوں سمیت شمال اور وسطی ہندوستان کے کئی حصوں میں اب بھی پورے مانسون کا انتظار ہو رہا ہے۔

Jul 09, 2019 04:39 PM IST | Updated on: Jul 16, 2019 12:01 PM IST
مشن پانی: ملک میں دنیا کا صرف 4 فیصد پانی! جانیں کس خطرے کی آمد ہے

پانی کے بحران سے متعلق علامتی تصویر

ایک طرف ممبئی میں بھاری بارش کی خبریں ہیں تو وہیں، دوسری طرف دہلی اور اس کے اطراف میں گزشتہ جمعہ کو ہلکی بوچھاروں کے علاوہ بارش کے اعداد وشمار تقریبا صفر ہی رہے ہیں۔ اترپردیش، مدھیہ پردیش، پنجاب، راجستھان، بہار اور مہاراشٹر کے کچھ حصوں سمیت شمال اور وسطی ہندوستان کے کئی حصوں میں اب بھی پورے مانسون کا انتظار ہو رہا ہے۔ تمام اعدادوشمار کے لحاظ سے اب تک یہ سال ہندوستان میں مانسون کے نہ ہونے کا سال ہے۔ پچھلے پانچ ہفتوں میں دہلی میں اوسط سے 90 فیصدی کم برسات ہوئی ہے۔

عام طور پر جون سے ستمبر تک مانسون کا موسم سمجھا جاتا ہے اور پورے موسم کی 17 فیصدی بارش جون میں ہی ہو جاتی ہے۔ لیکن اس سال جون کے مہینے میں 50 فیصدی کم بارش ہوئی۔ ظاہر طور پر یہ کسانوں کے لئے تشویش کی بات ہے کیونکہ ہندوستان میں زراعت زیادہ تر بارش پر ہی منحصر ہے۔ دوسری طرف، ملک میں اس سال شدید گرمی کا موسم طویل کھنچ چکا ہے۔

Loading...

ماحولیات سے منسلک  ڈاؤن ٹو ارتھ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال 1 مارچ سے پہلے 100 دن کے اندر ملک کی 22 ریاستوں میں 70 سے زیادہ گرمی کی لہر کے مرحلے دیکھے گئے۔ صرف بہار میں ہی 200 افراد ہلاک ہو گئے اور تمل ناڈو جیسی جنوبی ریاستوں میں بھی گرمی سے اموات کی خبر آئی۔ وہیں، محکمہ موسمیات کی مانیں تو پنجاب، راجستھان، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں بھی معمول سے 5.1 ڈگری سیلسیس زیادہ درجہ حرارت بنا ہوا ہے۔

Mission-pani-7

محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے بہت سے حصوں میں معمول سے  3 سے 5 ڈگری تک زیادہ درجہ حرارت ہوا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ آنے والے سالوں میں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہندوستان جیسے ممالک کو بہت زیادہ گرمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سائنس ایڈوانسیز میں شائع ایک تحقیق کے مطابق، جنوبی ایشیا میں گھنے زرعی علاقوں کے لوگوں کو دوسروں کے مقابلے میں سخت گرمی  کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کیسے ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک اس معاملہ میں حساس ہیں۔ اس رپورٹ کے حقائق کے مطالعہ سے موصول ڈیٹا بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اعداد و شمار اور پروگراموں پر عملدرآمد وزارت کی ویب سائٹ پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، 2010 سے 2016 کے درمیان ملک میں گرمی کی لہر کی کل 178 پاریاں تھیں جبکہ صرف 2017 میں ہی 524 اور 2018 میں 484 ہو گئیں۔ یعنی کچھ سالوں میں گرمی کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ہندوستان کے لئے خطرناک ہو گا آنے والا کل!۔

گرمی کی لہر کے ساتھ آبی بحران کا بڑھنا فطری ہے۔  اس سال پانی کی سطح میں 54 فیصد کمی آئی ہے۔ مرکزی آبی کمیشن کے مطابق، جون میں 90 آبی ذخائر میں 20 فیصد سے بھی کم پانی پایا گیا۔ چنئی کی طرح کچھ اور جگہوں پر تو یہ پوری طرح سے خشک پائے گئے۔ یہ کسانوں اور عام لوگوں کے لئے قطعی اچھی خبر نہیں ہے۔

اس سال پانی کی سطح میں 54 فیصد کمی آئی ہے۔ اس سال پانی کی سطح میں 54 فیصد کمی آئی ہے۔

دنیا بھر کی رپورٹوں کو دیکھا جائے تو واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ عالمی حدت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ پوری دنیا کی زمین کا ڈھائی فیصدی اور دنیا بھر کے پانی کا 4 فیصدی حصہ ہندوستان کے کھاتے میں ہے، جبکہ یہ دنیا کی آبادی کا 17 فیصدی حصہ ہے۔ ایسے میں ہندوستان میں خطرناک ہوتی موسمیاتی تبدیلی سے ملک کے سامنے بڑے چیلنجیز کھڑے ہونے والے ہیں۔

دنیا بھر میں گرمی کی مار

سائنس ایڈوانسیز کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس پوری صورت حال کا اثر ملک کے لوگوں کی صحت پر بری طرح سے پڑ سکتا ہے۔ ہندوستان کے علاوہ دیگر ممالک بھی زبردست گرمی سے جوجھ رہے ہیں جن میں کویت اور عرب ممالک شامل ہیں۔ یہاں اس سال جون میں درجہ حرارت 55 ڈگری کی سطح سے تجاوز کر گیا ہے۔ فرانس میں 45 ڈگری درجہ حرارت رہ چکا ہے۔  امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے کئی علاقوں میں ہزاروں طالب علموں نے متحد ہو کر حکومتوں سے ماحولیاتی تبدیلی کو لے کر ہنگامی کارروائی کرنے کی بھی مانگ کی۔

دوسری طرف، امریکہ اور یوروپی ملکوں کے مقابلہ میں دیکھا جائے تو فی شخص کاربن اخراج ہندوستان میں کم ہے، لیکن کل ملا کر کاربن اخراج بڑھ رہا ہے۔ دنیا بھر میں کاربن اخراج میں 70 فی صد اضافہ کے لئے صرف 10 ممالک ذمہ دار ہیں۔ کل کاربن اخراج کے 50 فیصدی کے لئے ذمہ دار چار ممالک میں ہندوستان بھی شامل ہے۔

حالانکہ، ہندوستان نے اس سمت میں کچھ کوششیں شروع کردی ہیں۔ گزشتہ سال، آئی پی سی سی کی خصوصی رپورٹ میں خبردار کیا جا چکا تھا کہ اگر دنیا بھر میں ہنگامی اور فوری اقدامات نہیں کئے گئے تو اگلے 10 سے 12 سالوں میں گلوبل وارمنگ کے خوفناک نتائج دیکھنے پڑیں گے۔ سائنس ایڈوانسیز کی تحقیق میں بھی واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ  ایسی صورت حال میں جنوبی ایشیا زیادہ سے زیادہ متاثر ہو گا۔ اب یہ واضح ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر ہندوستان سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔

 

Loading...