உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    QUAD Summit: جاپان کے لئے روانہ ہوئے پی ایم مودی، آج سرکردہ تاجروں سے کریں گے ملاقات، ان مدعوں پر ہوگی بات چیت

    جاپانی تاجروں سے پی ایم مودی کریں گےملاقات۔

    جاپانی تاجروں سے پی ایم مودی کریں گےملاقات۔

    QUAD Summit: جاپان میں ہندوستان کے سفیر نے کہا کہ ہندوستان انڈو پیسیفک میں خوشحالی، امن اور استحکام کو دیکھتا ہے۔ سپلائی چین ہمارے لیے ایک اہم مسئلہ رہے گا۔

    • Share this:
      QUAD Summit: وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کی رات ٹوکیو کواڈ سمٹ میں شرکت کے لیے جاپان روانہ ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم مودی جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا کی دعوت پر 23 سے 24 مئی تک ٹوکیو کا دورہ کررہے ہیں۔ پی ایم مودی کا یہ دورہ ہندوستان میں سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کے لیے بہت اہم ثابت ہونے والا ہے۔ جاپانی تاجروں کے ساتھ وزیر اعظم مودی کی مصروفیات پر بریفنگ دیتے ہوئے، جاپان میں ہندوستانی سفیر سنجے کمار ورما نے کہا کہ ٹوکیو نئی دہلی میں مواقع کے بارے میں پرجوش ہے۔ پی ایم مودی اور ان کے جاپانی ہم منصب Fumio Kishida کا ہندوستان میں پبلک، پرائیویٹ اور فنڈنگ ​​کے ذریعے پانچ ٹریلین جاپانی ین کی سرمایہ کاری کی خواہش ہے۔

      ورما نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ جاپان ہندوستان میں مواقع کو لے کر بہت پرجوش ہے۔ خاص طور پر پی ایل آئی اسکیموں کے بارے میں۔ اس لیے ہمیں انہیں بہتر طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب دونوں ممالک کے وزرائے اعظم اس سال مارچ 2022 میں نئی ​​دہلی میں 14 ویں سربراہی اجلاس میں ملے تھے، تو ان کے عزائم تھے کہ وہ سرکاری، نجی اور مالیاتی طریقوں کے ذریعے ہندوستان میں پانچ ٹریلین جاپانی ین کی سرمایہ کاری کریں۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ کواڈ لیڈرز قابل اعتماد سپلائی چینز کے تنوع کے لیے بھی پہل کریں گے اور ان پر خصوصی بات چیت کریں گے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Quad Summit :جاپان دورے میں40گھنٹے میں23 پروگراموں میں حصہ لیں گے پی ایم مودی

      یہ بھی پڑھیں:
      Big News: ہندوستان اور پاکستان سرحد پر مرکزی ٹیلی کام محکمہ نے شروع کیا یہ خصوصی آپریشن

      جاپان میں ہندوستان کے سفیر نے کہا کہ ہندوستان انڈو پیسیفک میں خوشحالی، امن اور استحکام کو دیکھتا ہے۔ سپلائی چین ہمارے لیے ایک اہم مسئلہ رہے گا۔ ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا نے سپلائی چین ریزیلینس انیشیٹو (SCRI) پر ایک سہ فریقی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: