உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سال 2027 میں ہندوستان کو مل سکتی ہے پہلی خاتون چیف جسٹس، ایس سی کولجیم نے بھیجی 9 ناموں کی سفارش

    اگر حکومت ان سفارشات کو منظور کرتی ہے تو سپریم کورٹ (Supreme Court) میں سبھی موجودہ خالی عہدے بھر جائیں گے اور ججوں کی تعداد 33 ہو جائے گی۔

    اگر حکومت ان سفارشات کو منظور کرتی ہے تو سپریم کورٹ (Supreme Court) میں سبھی موجودہ خالی عہدے بھر جائیں گے اور ججوں کی تعداد 33 ہو جائے گی۔

    اگر حکومت ان سفارشات کو منظور کرتی ہے تو سپریم کورٹ (Supreme Court) میں سبھی موجودہ خالی عہدے بھر جائیں گے اور ججوں کی تعداد 33 ہو جائے گی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ کی کولجیم (Supreme Court Colllegium) نے 22 ماہ بعد 9 نئی تقرریوں کی سفارش کی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا (CJI NV Ramana) نے منگل کو حکومت کے پاس یہ نام بھیجے ہیں۔ 9 ناموں میں سے تین نام خاتون ججوں کے ہیں۔ تین خاتون ججوں میں سے ایک آنے والے وقت میں ہندوستان کی پہلی خاتون چیف جسٹس آف انڈیا بھی بن سکتی ہیں۔ کولجیم نے پہلی بار تین خواتین ججوں کے ناموں کی سفارش کی ہے۔ اس میں کرناٹک ہائی کورٹ کی جج جسٹس بی وی ناگرنا، تلنگانہ ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ہما کوہلی اور گجرات ہائی کورٹ کی جج جسٹس بیلا ترویدی کے نام حکومت کو بھیجے گئے ہیں۔ اس میں جج جسٹس بی وی ناگرنا ہندوستان کی پہلی خاتون چیف جسٹس بن سکتی ہیں۔ ناگرنا سال 2027 میں چیف جسٹس بن سکتی ہیں۔

      سپریم کورٹ میں فی الحال ایک خاتون جج جسٹس اندرا بنرجی ہیں۔ وہ ستمبر 2022 میں ریٹائرڈ بنرجی ہیں۔ وہ ستمبر 2022 میں ریٹائرڈ ہونے والی ہیں۔ سپریم کورٹ میں اب تک صرف 8 خاتون ججوں کی تقرری ہوئی ہے۔ جج جسٹس روہنٹن نریمن کے سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے کے کچھ ہی دنوں بعد یہ سفارشات کی گئی ہیں۔ جج جسٹس نریمن سال 2019 سے کولجیم کے رکن تھے۔ انگریزی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، نریمن، کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ابھے اوکا اور تریپورہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عقیل قریشی کی سفارش پہلے کرنے کی بات کر رہے تھے۔ وہ اپنے رخ پر ڈٹے ہوئے تھے، جس کے سبب کولجیم سے نام بھیجے نہیں جا رہے تھے۔

      سپریم کورٹ کی کولجیم  نے 22 ماہ بعد 9 نئی تقرریوں کی سفارش کی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے منگل کو حکومت کے پاس یہ نام بھیجے ہیں۔
      سپریم کورٹ کی کولجیم نے 22 ماہ بعد 9 نئی تقرریوں کی سفارش کی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے منگل کو حکومت کے پاس یہ نام بھیجے ہیں۔


      کولجیم نے کی ان ناموں کی سفارش

      رپورٹ کے مطابق، کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اوکا کے ساتھ ہی گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وکرم ناتھ اور سکم ہائی کورٹ کے جسٹس جے کے مہیشوری کے بھی نام ناموں کی سفارش کی گئی ہے۔ وہیں بار سے کولجیم نے ایڈیشنل سالسٹر جنرل پی ایس نرسمہا کا نام دیا ہے۔ وہیں ہندوستان ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق، کیرل ہائی کورٹ کے جج جسٹس سی ٹی روی کمار، جج جسٹس ایم ایم سندریش کے نام کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

      اگر حکومت ان سفارشات کو منظور کرتی ہے تو سپریم کورٹ میں سبھی موجودہ خالی عہدے بھر جائیں گے اور ججوں کی تعداد 33 ہو جائے گی۔ حالانکہ بدھ کو ہی جج جسٹس نوین سنہا ریٹائر ہونے والے ہیں۔ کولجیم میں چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کے علاوہ جسٹس یو یو للت، جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس ایل ناگیشور راو شامل ہیں۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: