உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    India on Terrorism:سیکورٹی کونسل کی میٹنگ میں دہشت گردی کے خلاف ہندوستان نے مضبوطی سے رکھا اپنا موقف

    یو این سیکوریٹی کونسل میں وزیر مملکت برائے امور خورجہ ڈاکٹر راجکمار رنجن سنگھ۔

    یو این سیکوریٹی کونسل میں وزیر مملکت برائے امور خورجہ ڈاکٹر راجکمار رنجن سنگھ۔

    India on Terrorism: سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ جواب دہی کے مسئلے پر تنہائی میں بات نہیں کی جا سکتی ہے، اور نہ ہی اسے ریاست کی طرف سے کی جانے والی مبینہ کارروائیوں کو تنگ نظری سے دیکھا جا سکتا ہے جہاں غیر ملکی طاقتیں سرگرم طور پر شامل ہیں۔

    • Share this:
      اقوام متحدہ: ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف دوہرے رویے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کھلی بحث کے دوران تنقید کی۔ ہندوستان نے کہا کہ دہشت گردی کے آقاوں کو فرار کا موقع دینا ایک افسوسناک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے میں دہشت گرد طاقتوں خاص طور پر ریاستی سرپرستی میں دہشت گرد عناصر کی وجہ سے ہونے والی خونریزی کی ذمہ داری کسی پر عائد کرنے کی بحث ادھوری ہی رہے گی۔ جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ ڈاکٹر راجکمار رنجن سنگھ نے ایک کھلی بحث میں کہا کہ آج دہشت گردی بنی نوع انسان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے جو سماجی کشیدگی کو بڑھاتی ہیں، سماج کو عدم استحکام اور تشدد کی طرف دھکیلتی ہے۔

      ہندوستان کررہا ہے دہشت گردی کے بحران کا سامنا
      کونسل کے موجودہ صدر البانیہ کی صدارت میں 'بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہی اور انصاف کو مضبوط کرنا' کے موضوع پر ایک مباحثے میں وہ حصہ لے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم احتساب کی بات کرتے ہیں تو یہ واقعی افسوسناک صورتحال ہے کہ دہشت گردی کے سرپرستوں کو فرار ہونے کا موقع دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کونسل کو بتایا کہ ہندوستان کو کئی دہائیوں سے سرحد پار دہشت گردی کی لعنت کا سامنا ہے۔ ہندوستان میں دہشت گردانہ حملوں میں ہزاروں بے گناہ شہری مارے جا چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عالمی کوششوں میں ہندوستان ہمیشہ سب سے آگے رہا ہے۔

      جواب دہی کے مدعے پر الگ الگ بحث نہیں کی جاسکتی: سنگھ
      انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مخالفت پر ثابت قدم رہناچاہیے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے عراق میں داعش/آئی ایس آئی ایل کی طرف سے کئے گئے جرائم کے لئے جوابدہی طے کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی تحقیقات میں مدد کے لئے مالی مدد بھی فراہم کی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      India and Pakistan Relation:کیا شہباز دور میں ہند-پاک کے رشتوں میں آئے گی نرمی؟

      یہ بھی پڑھیں:
      Target Killing in Kashmir:کشمیر میں ہندوؤں کی ٹارگیٹ کلنگ کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ

      سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ جواب دہی کے مسئلے پر تنہائی میں بات نہیں کی جا سکتی ہے، اور نہ ہی اسے ریاست کی طرف سے کی جانے والی مبینہ کارروائیوں کو تنگ نظری سے دیکھا جا سکتا ہے جہاں غیر ملکی طاقتیں سرگرم طور پر شامل ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: