اپنا ضلع منتخب کریں۔

    سرحد پر ڈرون سے ڈرگس، ہتھیار اور گولہ بارود لانے کے معاملے میں ہوا اضافہ: بی ایس ایف

     سرحد پر ڈرون سے ڈرگس، ہتھیار اور گولہ بارود لانے کے معاملے میں ہوا اضافہ: بی ایس ایف

    سرحد پر ڈرون سے ڈرگس، ہتھیار اور گولہ بارود لانے کے معاملے میں ہوا اضافہ: بی ایس ایف

    ڈائریکٹر جنرل پنکج کمار سنگھ کے مطابق، پاکستان کے پنجاب سیکٹر سے اس سال 215 اڑانیں بھری گئیں۔ جموں کشمیر میں تقریباً 22 اڑانیں دیکھی گئی ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      پاکستان سے پنجاب اور جموں کشمیر کی سرحدوں پر ڈرون کے ذریعے ڈرگس، ہتھیار اور گولہ بارود لانے کے کیسیز 2022 میں دوگنا سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں۔ بیا یس ایف اسے روکنے کے لیے کسی اثردار قدم اٹھانے پر غور کررہی ہے۔ یہ باتیں بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل پنکج کمار سنگھ نے ہفتہ کو کہیں۔

      کیا کہا ڈائریکٹر جنرل پنکج کمار سنگھ نے؟
      بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل پنکج کمار سنگھ نے کہا کہ فورس نے حال ہی میں اس کا جائزہ لینے کے لیے دلی میں ایک جدید لیب قائم کیا ہے۔ اس کے نتائج بہت حوصلہ افزا رہے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیاں سرحد پار سے ہورہی اس غیر قانونی سرگرمی پر نظر رکھ سکتی ہیں۔ پنکج کمار نے کہا کہ بی ایس ایف کافی وقت سے ڈرون کے خطرے کا سامنا کررہی ہے۔

      jagran

      گزشتہ سال کے مقابلے 2022 میں بڑھ گئے کیسیز
      بی ایف ایس کے ڈائریکٹر جنرل پنکج کمار سنگھ نے آگے کہا کہ انتہائی جدید ڈرون ہمارے لیے مسائل کھڑی کررہے ہیں، کیونکہ یہ دہشت گردوں سمیت دیگر غلط لوگوں کے ہاتھوں میں آگئے ہیں۔ یہ بہت ہی خفیہ طریقے سے مناسب اونچائی پر فوری اڑان بھرتے ہوئے سرحد کے اندر داخل ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف نے 2020 میں بین الاقوامی سرحد پر قریب 79 ڈرون کی پروازوں کا پتہ لگایا تھا، جو گزشتہ سال بڑھ کر 109 ہوگئی اور اس سال یہ 266 کی تعداد کے ساتھ دوگنی سے زیادہ ہوگئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      اننت ناگ میں دہشت گردوں نے دو غیر مقامی مزدوروں پر کی فائرنگ، علاقہ میں دہشت کا ماحول

      یہ بھی پڑھیں:
      ’لداخ کی صورتحال مستحکم لیکن غیرمتوقع، چین کےاقدامات پرتوجہ دینےکی ضرورت‘ آرمی چیف جنرل پا

      یہ بہت ہی حساس مسئلہ ہے-ڈائریکٹر جنرل پنکج کمار
      ڈائریکٹر جنرل پنکج کمار سنگھ کے مطابق، پاکستان کے پنجاب سیکٹر سے اس سال 215 اڑانیں بھری گئیں۔ جموں کشمیر میں تقریباً 22 اڑانیں دیکھی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت ہی حساس مسئلہ ہے۔ ابھی تک ہمارے پاس اس کا کوئی پختہ حل نہیں ہے۔ ڈرون نشہ آور اشیا، ہتھیار، گولہ بارود، نقلی کرنسی اور ہر طرح کی چیزیں لاتے رہے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: