உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہند-پاک نے جوہری تنصیبات کی فہرست کا کیا تبادلہ، سال 1988 میں ہوا تھا معاہدہ

    ہند۔پاک نے کیا نیوکلیئر تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ۔

    ہند۔پاک نے کیا نیوکلیئر تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ۔

    پاکستان نے اپنے یہاں قید 628 ہندوستانیوں کی فہرست اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے ساتھ شیئر کی ہے۔ ان میں 557 ماہی گیر بھی شامل ہیں۔ بیان کے مابق ہندوستانی حکومت نے بھی اپنے ملک میں قید 355 پاکستانی شہریوں کی فہرست نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے ساتھ شیئر کی ہے۔ ان میں 73 ماہی گیر شامل ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان اور ہندوستان نے اپنے ایٹمی تنصیبات کی فہرست کا ہفتہ کو تبادلہ کیا۔ دراصل، دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی بڑھنے پر ان تنصیبات پر حملہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ خارجہ دفتر نے یہاں ایک بیان میں یہ جانکاری دی۔ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان یہ سالانہ رسم تین دہائیوں سے بھی پرانی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے اپنے اپنے یہاں قید رکھے گئے ایک دوسرے کے شہریوں کی فہرست کا بھی تبادلہ کیا، جن میں عام آدمی، دفاعی اہلکار اور ماہی گیر شامل ہیں۔

      پاکستان میں واقع ایٹمی تنصیبات اور ایٹمی سینٹرس کی فہرست یہاں وزارت خارجہ میں سرکاری طور سے ہندوستانی ہائی کمیشن کے ایک نمائندے کو ہفتہ کے دن سونپی گئی۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ اسی طرح، نئی دہلی میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے اپنے ایٹمی تنصیبات اور ایٹمی مراکز کی فہرست پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک نمائندے کو سونپی۔

      دونوں ملک جنوری اور جولائی میں شیئر کرتے ہوئے فہرست
      پاکستان نے اپنے یہاں قید 628 ہندوستانیوں کی فہرست اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے ساتھ شیئر کی ہے۔ ان میں 557 ماہی گیر بھی شامل ہیں۔ بیان کے مابق ہندوستانی حکومت نے بھی اپنے ملک میں قید 355 پاکستانی شہریوں کی فہرست نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے ساتھ شیئر کی ہے۔ ان میں 73 ماہی گیر شامل ہیں۔

      مئی 2008 میں سائن کیے گئے سیاسی رابطہ معاہدہ کے پروویژن کے تحت ان فہرستوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اس سمجھوتے کے تحت دونوں ملک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو یہ فہرست شیئر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے پاکستان میں بند ہندوستانی شہریوں اور لاپتہ ڈیفنس ورکرس، ماہی گیروں کو اُن کی کشتیوں کے ساتھ جلد سے جلد رہا کرنے کو کہا ہے۔ وزارت خارجہ نے بتایا کہ دو ہندوستانی قیدیوں اور 356 ہندوستانی ماہی گیروں کو جلد سے جلد رہا کرنے کو کہا گیا ہے۔ ان شہریوں کی قومیت کی تصدیق کی جاچکی ہے۔

      پہلا تبادلہ 1992 میں ہوا تھا
      وزارت نے کہا ’31 دسمبر 1988 کو سائن کیے گئے اور 27 جنوری 1991 کو لاگو کیا گیا معاہدہ، دیگر باتوں کے ساتھ، یہ پروویژن رکھتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کو ہر سال یکم جنوری کو اُن ایٹمی تنصیبات اور ایٹمی سینٹرس کے بارے میں مطلع کریں گے جنہیں سمجھوتے کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ ‘کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس طرح کی فہرستوں کا یہ لگاتار 31 واں لین دین ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: