உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان نے پاکستان سے سری نگر۔شارجہ پرواز کے لیے فضائی حدود کے استعمال کی مانگی اجازت، پاکستان نے اب تک نہیں دیا جواب

    سری نگر۔شارجہ پرواز

    سری نگر۔شارجہ پرواز

    حکام نے کہا کہ ہندوستان نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ عام لوگوں کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فلائٹ کو اوور فلائٹ کلیئرنس دی جائے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکومت نے ابھی تک پرواز کی اجازت دینے سے انکار کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے۔

    • Share this:
      ہندوستان نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ گو فرسٹ GoFirst ایئر لائن کی سری نگر-شارجہ فلائٹ Srinagar-Sharjah flight کو عام لوگوں کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اوور فلائٹ کلیئرنس کی اجازت دے۔ تاکہ اس سفر کے لیے اس کے فضائی حدود کو استعمال کیا جائے۔ تاہم ذرائع کے مطابق پاکستان نے اب تک اس پر کسی بھی طرح کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

      سرکاری حکام نے جمعرات کو کہا کہ پاکستان نے منگل کے روز سری نگر-شارجہ پرواز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی اور اسے لمبا راستہ اختیار کرنے اور متحدہ عرب امارات میں اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے گجرات کے اوپر سے پرواز کیا جاسکتا ہے۔


      گو فرسٹ پہلے گو ایئر GoAir کے نام سے جانا جاتا تھا، اس نے 23 اکتوبر سے سری نگر اور شارجہ کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کی تھیں اور اس سروس کا افتتاح مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ Amit Shah نے گزشتہ ماہ وادی کے دورے کے دوران کیا تھا۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ ’’پاکستانی حکام نے 23، 24، 26 اور 28 اکتوبر کو سری نگر-شارجہ سیکٹر کو چلانے کے لیے GoFirst پروازوں کو اوور فلائٹ کلیئرنس دی تھی‘‘۔


      ذرائع نے بتایا کہ اس کے بعد پاکستان نے اسی فلائٹ کی کلیئرنس 31 اکتوبر سے 30 نومبر تک کے لیے روک دی تھی۔ یہ معاملہ فوری طور پر سفارتی ذرائع سے پاکستان کے ساتھ اٹھایا گیا اور ہم نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ اس فلائٹ کے لیے اوور فلائٹ کلیئرنس دی جائے۔ یہ عام لوگوں کے مفاد میں ہوگا، جنہوں نے اس روٹ پر ٹکٹ بک کروائے ہیں۔

      لہذا حکام نے کہا کہ ہندوستان نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ عام لوگوں کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فلائٹ کو اوور فلائٹ کلیئرنس دی جائے، جنہوں نے اس سروس پر ٹکٹ بک کرائے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ پاکستانی حکومت نے ابھی تک پرواز کی اجازت دینے سے انکار کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے۔

      ان کا کہنا تھا کہ ہفتے میں چار بار چلنے والی پرواز کو 23 اکتوبر سے 31 اکتوبر کے درمیان پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے پر کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ گو فرسٹ نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی بیان یا تبصرہ جاری نہیں کیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: