உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    India-Russia: چھ دسمبر کو ہوگا مودی-پوتن سربراہی اجلاس، متعدد معاہدوں پر دستخطوں کا امکان

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    سربراہی اجلاس سے پہلے ہندوستان نے ہندوستان-روس کے مشترکہ منصوبے کے ذریعہ امیٹھی کے کوروا میں پانچ لاکھ سے زیادہ رائفلوں کی تیاری کے لئے تقریباً 5,000 کروڑ روپے کے طویل عرصے سے زیر التوا اے کے 203 کلاشنکوف رائفلوں کے سودے کو منظوری دے دی ہے۔

    • Share this:
      حکومتی ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان اور روس کل پیر یعنی 6 دسمبر 2021 کو وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان بات چیت ہوگی۔ جس میں دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ٹیکنالوجی کے کلیدی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے معاہدوں پر دستخطیں کی جائے گی۔

      سربراہی اجلاس کے ساتھ ساتھ افتتاحی ٹو پلیس ٹو دفاع اور وزارت خارجہ کی بات چیت میں دونوں فریق افغانستان کی صورت حال، لشکر طیبہ اور جیش جیسے گروپوں سمیت دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں سرحد پار دہشت گردی اور افغان بحران سے پیدا ہونے والے سیکورٹی مضمرات پر ہندوستان کے خدشات کی عکاسی ہونے کا امکان ہے۔ اسی ضمن میں پیوٹن پیر کو دہلی پہنچیں گے، وہیں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور وزیر دفاع سرگئی شوئیگو اتوار کی رات پہنچ رہے ہیں۔

      وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان بات چیت ہوگی۔
      وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان بات چیت ہوگی۔


      وزارت خارجہ (MEA) کے مطابق پی ایم مودی اور صدر پوتن شام 5:30 بجے چوٹی بات چیت کا آغاز کریں گے اور روسی رہنما 9:30 بجے دہلی سے جہاز پر روانہ ہوں گے۔ سربراہی اجلاس سے پہلے ہندوستان نے ہندوستان-روس کے مشترکہ منصوبے کے ذریعہ امیٹھی کے کوروا میں پانچ لاکھ سے زیادہ رائفلوں کی تیاری کے لئے تقریباً 5,000 کروڑ روپے کے طویل عرصے سے زیر التوا اے کے 203 کلاشنکوف رائفلوں کے سودے کو منظوری دے دی ہے۔

      امکان ہے کہ دونوں فریق لاجسٹک سپورٹ معاہدے کے لیے مذاکرات کے آخری مرحلے کو بھی سمیٹ لیں گے، جس پر یا تو ٹو پلس ٹو مذاکرات کے دوران یا سربراہی اجلاس میں دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔ ہندوستان اور روس اگلی دہائی کے لیے ٹیکنالوجی اور سائنس پر ایک مشترکہ کمیشن کا اعلان کرنے کے علاوہ چوٹی کانفرنس میں فوجی تکنیکی تعاون کے فریم ورک کی تجدید کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

      دونوں فریق ہندوستانی مسلح افواج کے لیے 200 جڑواں انجن کاموف-226T ہلکے ہیلی کاپٹروں کی مشترکہ پیداوار کے لیے طویل عرصے سے زیر التوا منصوبے پر غور و خوض کرنے کے علاوہ کئی دفاعی خریداری کی تجاویز بھی پیش کر سکتے ہیں۔

      ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ ہندوستان روسی فریق کو مشرقی لداخ کی سرحدی صف پر اپنی پوزیشن کے ساتھ ساتھ مختلف علاقائی پیش رفتوں پر اپنی تشویش سے آگاہ کرے گا۔ تنازعہ کو حل کرنے میں کسی ممکنہ روسی کردار کے بارے میں پوچھے جانے پر، ذرائع نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ مسائل کو دو طرفہ طور پر حل کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ روس میں موجودہ کوویڈ 19 کی صورتحال کے باوجود صدر پوتن کا ہندوستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ اس اہمیت کی عکاسی کرتا ہے جو وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو دیتے ہیں۔

      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: