உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کووڈ ویکسین ڈوز کا 100 کروڑ اور مسلسل اضافہ دکھاتا ہے کہ لوگوں کی شراکت داری کیا حاصل کرسکتی ہے

    کووڈ ویکسین ڈوز کا 100 کروڑ اور مسلسل اضافہ دکھاتا ہے کہ لوگوں کی شراکت داری کیا حاصل کرسکتی ہے

    کووڈ ویکسین ڈوز کا 100 کروڑ اور مسلسل اضافہ دکھاتا ہے کہ لوگوں کی شراکت داری کیا حاصل کرسکتی ہے

    ہندوستان نے ٹیکہ کاری کی شروعات کے صرف نومہینے بعد ہی 21 2021 100 کروڑ ڈوز کا ہدف حاصل کر لیا ۔ کووڈ سے نمٹنے کا یہ ایک شاندار سفر رہا ہے ۔

    • Share this:
      ہندوستان نے ٹیکہ کاری کی شروعات کے صرف نومہینے بعد ہی 21 2021 100 کروڑ ڈوز کا ہدف حاصل کر لیا ۔ کووڈ سے نمٹنے کا یہ ایک شاندار سفر رہا ہے  ۔ خاص  طور پر جب ہم یاد کرتے ہیں کہ 2020 کی شروعات میں حالات کیسے تھے ۔ انسانیت 100 سال کے بعد ایسی عالمی وبا کا سامنا کررہی تھی ۔ ہم ایک نامعلوم اور نظر نہ آنے والے دشمن کا مقابلہ کررہے تھے ، جو تیزی سے اپنا حلیہ بھی بدل رہا تھا ۔ تشویش سے یقین دہانی تک کا سفر پورا ہوچکا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم کے نتجہ میں ہمارا ملک مزید مضبوط ہوکر ابھرا ہے ۔ اس کو حقیقت میں 'بھاگیرتھ' کوشش ماننی چاہئے ، جس میں سماج کے کئی طبقے شامل ہوئے ہیں ۔ تصور کریں کہ اگر ایک ٹیکہ لگانے میں صرف 2 منٹ کا وقت لگتا ہے ۔ اس شرح سے اس کامیابی کو حاصل کرنے میں تقریباً 41 لاکھ ’افرادی دن‘ یا تقریباً 11 ہزار سال لگے۔

      اس مہم کی کامیابی کی وجوہات میں سے ویکسین اور بعد کے پروسیس کے تئیں لوگوں کا بھروسہ تھا ، جو عدم اعتماد اور خوف پیدا کرنے کی مختلف کوششوں کے باجود قائم رہا ۔ ہم لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں ، جو یومیہ ضرورتوں کیلئے بھی غیرملکی برانڈوں پر بھروستہ کرتے ہیں ، لیکن جب کووڈ 19 ویکسین جیسی اہم بات آئی تو باشندگان وطن نے اتفاق رائے سے میڈ ان انڈیا ویکسین پر پورا بھروسہ کیا ۔ یہ ایک اہم نظریاتی تبدیلی ہے ۔

      ہندوستان کی ٹیکہ کاری مہم اس بات کی ایک مثال ہے کہ اگر یہاں کے شہری اور حکومت ’جن بھاگیداری‘ کے جذبہ سے لیس ہوکر کسی مشترکہ ہدف کو پورا کرنے کے  لئے متحد ہو جائیں، تو ملک کیا کچھ حاصل کرسکتا ہے ۔ جب ہندوستان نے ٹیکہ کاری کا پروگرام شروع کیا تو 130 کروڑ ہندوستانیوں کی صلاحیتوں پر شک کرنے والے کئی لوگ تھے ۔ کچھ نے کہا کہ ہندوستان کو اس میں تین چار سال لگیں گے ۔ کچھ نے کہا کہ لوگ ٹیکہ کاری کیلئے آگے ہی نہیں آئیں گے ۔ وہیں کچھ ایسے بھی تھے ، جنہوں نے کہا کہ ٹیکہ کاری مہم بدانتظامی اور افراتفری کا شکار ہوگی ۔ کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ ہندوستان سپلائی چین کا انتظام نہیں کرپائے گا ، لیکن جنتا کرفیو اور لاک ڈاون کی طرح لوگوں نے یہ دکھا دیا کہ اگر انہیں بھروسہ مند ساتھی بنایا جائے تو نتائج کتنے شاندار ہوسکتے ہیں ۔

      اگر ہر کوئی ذمہ داری اٹھالے تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہے ۔ ہمارے ہیلتھ ورکرس نے  شہریوں کو ٹیکہ لگانے کیلئے مشکل ترین علاقوں میں پہاڑوں اور ندیوں کو پار کیا اور ان لوگوں تک یہ ٹیکہ پہنچایا ۔ ہمارے نوجوان ، سماجی کارکنان ، ہیلتھ ورکرس ، سماجی اور مذہبی لیڈروں کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے کہ ٹیکہ لینے کے معاملہ میں ہندوستان کو ترقی یافتہ ممالک کے مقابلہ میں کافی کم ہچکچاہٹ کا سامنا کرنا پڑا ۔ الگ الگ مفادات سے وابستہ مختلف گروپس کی جانب سے ٹیکہ کاری مہم میں انہیں ترجیح دینے کا کافی دباو تھا ، لیکن سرکار نے یہ یقینی بنایا کہ دیگر اسکیموں کی طرح ٹیکہ کاری میں بھی کوئی وی آئی پی کلچرل نہیں ہوگی ۔ 2020 کی شروعات میں جب دنیا بھر میں کووڈ 19 تیزی سے پھیل رہا تھا تو ہمارے سامنے یہ بات واضح تھی کہ اس وبا سے آخرکار ٹیکوں کی مدد سے ہی لڑنا ہوگا ۔ ہم نے ایکسپرٹس گروپوں کی تشکیل کرکے اپریل 2020 سے ہی ایک روڈمیپ تیار کرنا شروع کردیا اور اس پر آگے بڑھے ۔

      آج تک صرف کچھ چنندہ ممالک نے ہی اپنے خود کے ٹیکے ڈیولپ کئے ہیں ۔ 180 کروڑ سے بھی زیادہ ممالک ٹیکوں کیلئے جن مصنوعات پر منحصر ہیں ، وہ محدود تعداد میں ہیں ۔ جہاں ایک جانب ہندوستان نے سو کروڑ ڈوز کا جادوئی ہندسہ کامیابی کے ساتھ پار کرلیا ہے تو وہیں درجنوں ممالک اب بھی اپنے یہاں ٹیکوں کی سپلائی کا بڑی بے صبیری سے انتظار کررہے ہیں ۔ تصور کیجئے کہ اگر ہندوستان کے پاس اپنا ٹیکہ نہیں ہوتا تو کتنے سال لگ جاتے ؟ اس کا کریڈت ہندوستانی سائنسدانوں اور انٹرپرینیور کو دیا جانا چاہئے ۔ ان کی شاندار صلاحت اور سخت محنت کی بدولت ہی ہندوستان ٹیکوں کے محاذ پر حقیقت میں خودکفیل بن گیا ہے ۔

      ایک ایسے ملک میں جہاں سرکاروں کو ملک کی ترقی میں رکاوٹ مانا جاتا تھا ، ہماری سرکار تیزی سے ملک کی ترقی یقینی بنانے میں ہمیشہ مددگار رہی ۔ 'مکمل سرکار' کے ہمارے وژن کے نتیجہ میں سبھی وزارتیں ویکسین بنانے والوں کی کسی بھی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے متحد ہوگئیں ۔

      ہندوستان جیسے بڑی آبادی والے ملک میں صرف پروڈکشن کرنا ہی کافی نہیں ہے ۔ اس کیلئے بلا رکاوٹ لاجسٹکس پر بھی فوکس ہونا چاہئے ۔ پونے یا حیدرآباد میں واقع پلانٹس سے نکلی شیشی کو ریاست کے ہب میں بھیجا جاتا ہے ، جہاں سے اس کو ضلع ہب تک پہنچایا جاتا ہے ۔ وہاں سے اس کو ٹیکہ کاری مراکز تک پہنچایا جاتا ہے ۔ اس میں طیاروں اور ریلوں کے ذریعہ کئی سفر بھی کرنے ہوتے ہیں ۔ ٹیکوں کو محفوظ رکھنے کیلئے اس دوران درجہ حرارت کو ایک خاص رینج میں بنائے رکھنا ہوتا ہے ۔ اس کیلئے ایک لاکھ سے بھی زیادہ کووڈ چین آلات کا استعمال کیا گیا ۔

      ڈسکلیمر : اس مضمون کو وزیر اعظم نریندر مودی کے بلاگ سے لیا گیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: