ہوم » نیوز » عالمی منظر

نیپال کے متنازعہ نقشے پر ہندوستان سخت، کہا- تاریخی حقائق سے دور قانون منظور نہیں

نیپال کے ترمیمی نقشے میں ہندوستان کی سرحد سے متصل سیاسی طور پر اہم لپولیکھ (Lipulekh)، کالا پانی (Kalapani) اور لمپیادھورا (Limpiyadhura) علاقے میں دعویٰ کیا گیا ہے۔

  • Share this:
نیپال کے متنازعہ نقشے پر ہندوستان سخت، کہا- تاریخی حقائق سے دور قانون منظور نہیں
نیپال کے متنازعہ نقشے پر ہندوستان سخت

نئی دہلی: نیپال (Nepal) کی پارلیمنٹ نے ہفتہ کے روز ملک کے سیاسی نقشے کو ترمیم کرنے کے لئے آئین میں ترمیم سے متعلق ایک بل پر اتفاق رائے سے اپنے مہر لگا دی۔ ترمیمی نقشے میں ہندوستان کی سرحد سے متصل سیاسی طور پر اہم لپولیکھ (Lipulekh)، کالا پانی (Kalapani) اور لمپیادھورا (Limpiyadhura) علاقے میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ نیپال کے اس ترمیم کو ہندوستان نے کہا ہے کہ سرحدوں میں کیا گیا یہ اضافہ عقلی نہیں ہے۔


ہندوستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو (India's Foreign Ministry Expert Anurag Srivastava) نے کہا کہ 'ہم نے دھیان دیا ہے کہ نیپال کی ایوان نمائندگان نے ہندوستانی علاقے کو شامل کرنے کے لئے نیپال کے نقشے کو بدلنے کے لئے ایک آئینی ترمیمی بل پاس کیا ہے۔ ہم نے اس معاملے پر اپنی پوزیشن پہلے ہی واضح کردی ہے۔ دعووں کی مصنوعی توسیع تاریخی حقائق یا ثبوتوں پر مبنی نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مطلب ہے۔ یہ بقایا سرحدی موضوعات پر بات چیت کرنے کے لئے ہمارے موجودہ سمجھ کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ واضح رہے کہ اس نئے ترمیمی قانون میں ہندوستان کے تین علاقوں کو اپنا بتایا جارہا ہے۔

آئین میں کی گئی ترمیم


نیپالی کانگریس، راشٹریہ جنتا پارٹی - نیپال اور راشٹریہ پرجاتنتر پارٹی سمیت اہم اپوزیشن جماعتوں نے ہفتہ کو اسی نئے متنازعہ نقشے کو شامل کرتے ہوئے قومی علامت کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے آئین کی تیسری فہرست کو ترمیم کرنے سے متعلق سرکاری قانون کے حق میں ووٹنگ کی۔ ملک میں 275 اراکین والی ایوان زیریں میں بل کو پاس کرانے کے لئے دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔
پارلیمنٹ نے 9 جون کو اتفاق رائے سے اس بل کی تجویز پر تبادلہ خیال کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس نے نئے نقشے کو منظور کئے جانے کا راستہ صاف ہوا۔ بل کو قومی اسمبلی میں بھیجا جائے گا، جہاں اسے ایک بار پھر اسی عمل سے ہوکر گزرنا ہوگا۔ برسراقتدار نیپال کمیونسٹ پارٹی کے پاس قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ہے۔

ہندوستان نے کہا- ہم نے کی نیپال کی مدد

اس درمیان انوراگ شریواستو نے کووڈ-19 وبا سے لڑنے میں ہندوستان کے ذریعہ نیپال کو دی جانے الی مدد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، ’ہم نے نیپال کو تقریباً 25 ٹن میڈیکل اشیا فراہم کی ہے، جس میں پیراسیٹا مال اور ہائیڈروکسیکلوروکین دوائیں، چیک اپ کٹ اور دیگر میڈیکل سے جڑی اشیا شامل ہیں’۔ نیپال ان ممالک کی پہلی فہرست میں تھا، جن کے لئے ہندوستان نے لائسنس کلاس میں لے جانے کے بعد HCQ کے ایکسپورٹ کو منظوری دے دی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے انسانی بنیاد پر بیرون ملک میں پھنسے نیپالی شہریوں کو واپس لانے میں مدد کی تھی۔ سب سے ضروری، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہندوستانی حکومت نے یہ بھی یقینی بنایا ہےکہ دونوں طرف سے جاری لاک ڈاون کے باوجود نیپال کو تجارت اور ضروری اشیا کی سپلائی میں کوئی ناخوشگوار مداخلت نہ ہو۔

سال 2015 میں ہوا تھا اختلاف

سال 2015 میں سپلائی میں ہوئی رکاوٹ کے بعد ہندوستان اور نیپال کے درمیان ایک سنگین اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔ ہندوستان نے اس بات سے انکار کیا تا کہ اس نے نیپال کے خلاف کسی بھی ناکہ بندی کی گزارش کی تھی اور مسلسل اس بات پر زور دیا تھا کہ مدھیش کے مظاہرین نے سرحدوں کو روک دیا ہے، جس سے ہندوستان میں ضروری اشیا والے ٹرکوں کی سپلائی میں رکاوٹ آ رہی ہے۔ حالانکہ نیپال نے ہندوستان پر ایک اقتصادی ناکہ بندی کی طرف بڑھنے کا الزام لگایا، جس کے بعد اس کی پہاڑی آبادی جو ہندوستان سے رسوئی گیس اور دیگر ضروری اشیا کی سپلائی پر منحصر تھی، اس کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔
First published: Jun 14, 2020 01:20 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading