உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان نے کہا-سیاسی وجوہات سے 26/11 حملوں کے قصورواروں پر پابندی لگانے کی ہماری کوششوں کو روکا گیا

    روچیرا کمبوج۔Ruchira Kamboj

    روچیرا کمبوج۔Ruchira Kamboj

    کمبوج نے کہا کہ ان دہشت گردانہ حملوں کے سازشیوں اور مددگاروں پر پابندی لگانے کی ہماری کوششوں کو ماضی میں سیاسی وجوہات سے بلاک کردیا گیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      ہندوستان نے کہا ہے کہ 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے سازشیوں اور مددگاروں پر پابندی لگانے کی اس کی کوششوں کو ماضی میں ‘سیاسی وجوہات‘ سے روک دیا گیا، جس کی وجہ سے ذمہ دار لوگوں کو آزاد گھومنے اور آگے بھی ملک کے خلاف سرحد پار حملوں کو فروغ دینے میں مدد ملی۔

      اقوام متحدہ میں ہندوستان کی مستقل نمائندہ اور سفیر روچیرا کمبوج نے کہا کہ دہشت گردی بین الاقوامی امن اور سیکورٹی کے لیے ’ایک بڑا خطرہ‘ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ سے متعلقہ گروپس خاص طور سے ایشیا اور افریقہ میں اپنے منصوبوں کو انجام دیتے ہوئے عام لوگوں اور سیکورٹی فورس کو نشانہ بنارہے ہیں۔

      کمبوج نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی 1267/1373/1540 کمیٹیوں کے صدور کی جانب سے سیکورٹی کونسل کی مشترکہ بریفینگ میں اپنے ریمارک میں کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نومبر 2008 میں 10 دہشت گرد سمندری راستے کے ذریعے پاکستان سے ممبئی شہر میں داخل ہوئے تھے اور چار دن تک شہر میں تباہی مچاتے رہے، جس میں 26 غیر ملکی شہریوں سمیت 166 لوگ مارے گئے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      جنوبی کشمیر: دہشت گردی کاگراف نیچے آگیا،دہشت گردوں کی تعداددوہندسوں تک پہنچی: ڈی جی پی

      یہ بھی پڑھیں:
      وزیرداخلہ امیت شاہ نے لاچیت بورفوکن کو پیش کیا خراج، کہا-اگر وہ نہیں ہوتے تو۔۔۔

      لیفٹیننٹ گورنرنے کی شاہی امام بخاری سے بات، جامع مسجد میں داخل ہوپائیں گی خواتین

      پاکستانی دہشت گردوں اور اداروں کا نامزد کرنے کے لیے ہندوستان اور امریکہ کی جانب سے کی جارہی کوششوں پر چین کی جانب سے بار بار روک لگانے کے درمیان کمبوج نے کہا کہ ان دہشت گردانہ حملوں کے سازشیوں اور مددگاروں پر پابندی لگانے کی ہماری کوششوں کو ماضی میں سیاسی وجوہات سے بلاک کردیا گیا۔ وہ کھلے عام اپنے منصوبوں پر کام کرتے ہوئے میرے ملک کے خلاف سرحد پار سے حملوں کو انجام دیتے رہے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: