ہوم » نیوز » وطن نامہ

کلبھوشن کیس : ہندوستان داخل کرنے والا تھا نظر ثانی کی عرضی ، لیکن پاکستان نے نہیں دئے دستاویز

وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے کہا کہ ہندوستان نے ایک سال میں کلبھوشن جادھو سے ایک سال میں 12 مرتبہ سفارتی رسائی کے لئے درخواست کی تھی اور پاکستان اب تک ان سے بلا تعطل سفارتی رسائی فراہم نہیں کرا پا یا ہے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 23, 2020 10:08 PM IST
  • Share this:
کلبھوشن کیس : ہندوستان داخل کرنے والا تھا نظر ثانی کی عرضی ، لیکن پاکستان نے نہیں دئے دستاویز
کلبھوشن کیس : ہندوستان داخل کرنے والا تھا نظر ثانی کی عرضی ، لیکن پاکستان نے نہیں دئے دستاویز

ہندوستان نے کلبھوشن جادھو کو سفارتی رسائی اور عدالتی اختیارات دئے جانے کے تعلق سے پاکستان کی عدم توجہی پر ناراضگی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ یہاں نہ صرف بین الاقوامی عدالت انصاف کے حکم کی خلاف ورزی ہے اور ہندوستان اس کے خلاف اپیل کے اختیارات کا استعمال کرے گا ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے با ضابطہ بریفنگ میں کہا کہ ہندوستان نے ایک سال میں کلبھوشن جادھو سے ایک سال میں 12 مرتبہ سفارتی رسائی کے لئے درخواست کی تھی اور پاکستان اب تک ان سے بلا تعطل سفارتی رسائی فراہم نہیں کرا پا یا ہے ۔ 16 جولائی کو ہندوستانی سفارت کاروں سے جادھو کی ملاقات میں پاکستانی سرکا ر نے رکاوٹ ڈالی اور انہیں جادھو کو کوئی بھی دستاویزات نہیں سونپنے کی ہدایت دی ۔ اسی وجہ سے ہندوستانی سفارتکار جادھو سے پاور آف اٹارنی حاصل نہیں پائے ۔


نہوں نے کہا کہ ہندوستان نے پاکستان سے مسٹر جادھو کے مقدمے سے متعلق متعلقہ دستاویزات مہیا کرنے کی بار بار درخواست کی۔ پاکستان نے ہندوستان سے کہا کہ دستاویزات کسی مجاز پاکستانی وکیل کو مہیا کرائے جاسکتے ہیں۔ اس لئے ہندوستان نے دستاویزات حاصل کرنے کے لئے ایک پاکستانی وکیل سے معاہدہ کیا ، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان حکومت نے اس پاکستانی وکیل کو بھی دستاویزات دینے سے انکار کردیا ۔ اس کے باوجود ہندوستان نے 18 جولائی کو عدالت میں درخواست دائر کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن پاکستانی وکیل نے مطلع کیا کہ مختیار نامہ اور دیگر ضروری دستاویزات کی عدم موجودگی میں اس پر نظر ثانی درخواست دائر نہیں کی جاسکتی ہے۔


ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے عرضی دائر کرنے کی آخری تاریخ کے تعلق سے بھی جھوٹ پھیلا یا ۔ پہلے کہا کہ مقدمہ درج کرنے کی آخری تاریخ 19 جولائی ہے ۔ بعد میں کہا کہ مدت 20 جولائی کو ختم ہورہی ہے ۔ آرڈیننس میں خامیوں کے تعلق سے ہندوستان نے پہلے ہی جون میں اپنے خدشات بیان کئے تھے ۔ پاکستان نے بار بار درخواست کے بعد ہندوستان کو آرڈیننس کے تعلق سے دو ہفتوں بعد اطلاع دی اور اس کی کاپی کا اشتراک کیا ۔ ہندوستان نے پاکستان کو بتایا کہ اس کا آرڈیننس بین الاقوامی عدالت انصاف کے حکم کے مطابق نہیں ہے۔


انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کا رویہ سنجیدہ نہیں ہے اور وہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے حکم پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتا ہے۔ اس نے ہندوستان کو دستیاب انصاف کے تمام راستے بند کردیے ہیں ۔ یہ پوری مشق پاکستان کی جعلسازی کو بے نقاب کرتی ہے۔ پاکستان بین الاقوامی عدالت انصاف کے احکامات کے مطابق راحت دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اور ہندوستان اس معاملے میں انصاف کے حصول کے لئے اپنے حقوق کا استعمال کرے گا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 23, 2020 10:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading