ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نیپال کے وزیر اعظم کے ہندوستان مخالف پر دو ٹوک جواب، ایسی زبان ہرگز نہیں برداشت نہیں

وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے کہا کہ نیپال اس بارے میں ہندوستان کے مستقل موقف سے بخوبی واقف ہے اور ہم نیپال حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کا بلا جواز نقشہ اختراع کرنے سے باز رہے اور ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

  • UNI
  • Last Updated: May 21, 2020 04:26 AM IST
  • Share this:
نیپال کے وزیر اعظم کے ہندوستان مخالف پر دو ٹوک جواب، ایسی زبان ہرگز نہیں برداشت نہیں
نیپال کی ہند مخالف بات پر ہندوستان نے نیپال قیادت کو دیا انتباہ

نئی دہلی: ہندوستان نے بدھ کے روز نیپال حکومت کی طرف سے کالا پانی اور لیپولیخ کو نیپال کا حصہ ظاہر کرنے کے مقصد سے یکطرفہ طور پر ایک نیا نقشہ جاری کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور الزام عائد کیا کہ نیپال کی قیادت سرحدی معاملے پر دوطرفہ سفارتی بات چیت کے لیے ماحول خراب کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے یہاں نیپال کے اس اقدام کے بارے میں نامہ نگاروں کے سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت نیپال نے آج نیپال کا ایک ترمیم شدہ سرکاری نقشہ جاری کیا ہے، جس میں ہندوستانی علاقے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ یکطرفہ کارروائی تاریخی حقائق اور شواہد پر مبنی نہیں ہے۔ یہ اقدام زیر التوا سرحدی امور کے سفارتی مذاکرے کے ذریعے مفاہمت کے باہمی اتفاق رائے کے منافی ہے۔ اس طرح مصنوعی ڈھنگ سے کئے گئے دعوے ہندوستان قبول نہیں کرے گا۔


وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے کہا کہ نیپال اس بارے میں ہندوستان کے مستقل موقف سے بخوبی واقف ہے اور ہم نیپال حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کا بلاجواز نقشہ اختراع کرنے سے باز رہے اور ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا، ’ہمیں امید ہے کہ نیپالی قیادت زیر التوا سرحدی مسئلے کے حل کے لئے سفارتی گفت و شنید کی مثبت فضا پیدا کرے گی‘۔


ہندوستان نے حالیہ دہائیوں میں نیپال کے بارے میں شاید ہی کوئی سخت بیان دیا ہو۔ اس بیان میں ہندوستان نے نیپال کی قیادت کو دو مضبوط اشارے بھی دیئے ہیں۔
ہندوستان نے حالیہ دہائیوں میں نیپال کے بارے میں شاید ہی کوئی سخت بیان دیا ہو۔ اس بیان میں ہندوستان نے نیپال کی قیادت کو دو مضبوط اشارے بھی دیئے ہیں۔


ہندوستان نے حالیہ دہائیوں میں نیپال کے بارے میں شاید ہی کوئی سخت بیان دیا ہو۔ اس بیان میں ہندوستان نے نیپال کی قیادت کو دو مضبوط اشارے بھی دیئے ہیں۔ پہلا اگر نیپال اپنا موقف تبدیل نہیں کرتا ہے تو تو لاک ڈاؤن کھلنے تک مجوزہ سکریٹری ہرشوردھن شرینگلا کے کاٹھمانڈو کے دورے کے موقع پر دوبارہ غور و خوض کیا جاسکتا ہے اور دوسرا دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعطل کھڑا ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ آرمی چیف جنرل ایم ایم نرَونے نے حال ہی میں کہا تھا کہ نیپال کی قیادت بیرونی اشارے پر کالاپانی اور لیپولیخ خطے میں ایک سرحدی تنازعہ اٹھا رہی ہے۔ ان کا اشارہ چین کی طرف تھا۔

ہندوستان کے ساتھ سرحد تنازعہ کے درمیان نیپال کا نیا سیاسی نقشہ جاری کرنے سے تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس نقشے میں لپوکھیل (Lipulekh Road)، کالاپانی (Kalapani Territory) اور لمپیادھرا (Limpiyadhura) کو نیپالی علاقے میں دکھایا گیا ہے۔ اس درمیان نیپالی وزیراعظم کے پی شرما اولی نے کورونا وبا کو لے کر ہندوستان کے خلاف ایک بڑا بیان دیا ہے۔ نیپالی زبان میں دیئے گئے اس بیان میں اولی نے کہا کہ ہندوستان سے جو لوگ نیپال لوٹے ہیں، ان میں کورونا کے سنگین علامات ملے ہیں، جبکہ اٹلی اور چین سے لوٹے شہریوں میں کورونا کے معمولی علامات ملے ہیں۔ کے پی شرما اولی کے اس بیان پر فی الحال ہندوستانی حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
First published: May 21, 2020 01:05 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading