ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پاکستان ہائی کمیشن پر دہشت گردوں سے تعلقات اور جاسوسی کا الزم ، 50 فیصد ملازمین کو واپس بھیجے گا ہندوستان

ہندوستانی وزارت خارجہ (Ministry of Foreign Affairs) نے منگل کو پاسکتان ہائی کمیشن (Pakistan High Commission) کے انچارج کو طلب کیا ۔ ہندوستان نے کہا کہ وہ پاکستانی ہائی کمیشن کے ملازمین کی سرگرمیوں کو لے کر بار بار تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے ، وہ جاسوسی کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطہ بنائے رکھتے ہیں ۔

  • Share this:
پاکستان ہائی کمیشن پر دہشت گردوں سے تعلقات اور جاسوسی کا الزم ، 50 فیصد ملازمین کو واپس بھیجے گا ہندوستان
پاکستان ہائی کمیشن پر جاسوسی کا الزم ، 50 فیصد ملازمین کو واپس بھیجے گا ہندوستان

ہندوستانی حکومت (Government of India)  نے نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن (Pakistan High Commission) میں ملازمین کی تعداد پچاس فیصد تک کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہندوستان کے اس فیصلہ کے بعد سے ہائی کمیشن میں تعینات ملازمین کی تعداد 110 سے کم کرکے 55 کردی جائے گی ۔ ہندوستانی وزارت خارجہ (Ministry of Foreign Affairs) نے منگل کو پاکستان ہائی کمیشن (Pakistan High Commission) کے انچارج کو طلب کیا ۔ ہندوستان نے کہا کہ وہ پاکستانی ہائی کمیشن کے ملازمین کی سرگرمیوں کو لے کر بار بار تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے ، وہ جاسوسی کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطہ بنائے رکھتے ہیں ۔ 31 مئی 2020 کو دو ملازمین کو ملک مخالف سرگرمیوں میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا اور واپس بھیج دیا گیا تھا ۔


جہاں پاکستان کے افسران ایسے کاموں میں ملوث تھے جو ہائی کمیشن میں ان کے مراعات یافتہ درجہ کے مناسب نہیں ہے ، وہیں پاکستان مسلسل اسلام آباد میں ہندوستائی کمیشن کے افسران اور ملازمین کو ان کے ویلڈ سفارتی کاموں کو کرنے سے روکنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔ حال ہی میں پاکستان میں ہائی کمیشن میں کام کرنے والے دو ہندوستانی ملازمین کا بندوک کی نوک پر اغوا کیا گیا اور ان کے ساتھ انتہائی غلط رویہ اختیار کیا گیا ، جس پر ہندوستان نے پاکستان کو پھٹکار بھی لگائی تھی ۔


یہی نہیں پاکستان کی جانب سے جھوٹے دعوے بھی کئے گئے کہ ان ملازمین کی گاڑی سے ایک شخص سنگین طور پر زخمی ہوگیا تھا اور وہ اس کو چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے ، جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا ۔ حالانکہ ہندوستان کے ذریعہ پاکستان پر دباو ڈالے جانےکے بعد ان ملازمین کو ان کی گاڑی سمیت اسلام آباد میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن میں پہنچادیا گیا تھا ۔


پاکستان کے اس طرح کے برتاو سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ہندوستانی ملازمین کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرتا رہا ہے ۔ 22 جون 2020 کو ہندوستان لوٹ کر آئے ان ملازمین نے پاکستانی ایجنسیوں کے ذریعہ برے برتاو کی تفصیل ہندوستانی حکومت کو دی ہے ، جس کے بعد ہندوستان نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔

خیال رہے کہ پاکستان اور اس کے افسران کا رویہ ویانا کنوینشن اور سفارتی اور قونصلر افسران کے ساتھ ہونے والے سلوک پر دو طرفہ سمجھوتوں کے مطابق نہیں ہے ۔
First published: Jun 23, 2020 07:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading