اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ہندوستان،UNSCمیں اصلاحات کیلیئے لگائے گا مزید زور، امریکہ پہنچ رہے ہیں وزیر خارجہ

    وزیر خارجہ ایس جے شنکر

    وزیر خارجہ ایس جے شنکر

    ہندوستان دو سالوں کے لیے یو این ایس سی کا غیرمستقل رکن بنایا گیا ہے جس کی مدت 31 دسمبر 2022 کو ختم ہورہی ہے۔ ہر غیر مستقل رکن کو اس کی معیاد کےد وران دو مرتبہ دنیا کی سب سے بڑی پنچایت کی صدارت کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      ستمبر2022 میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے دوران جس طرح سے کئی ممالک نے یو این ایس سی میں اصلاحات کی وکالت کی ہے اسے دیکھتے ہوئے ہندوستان اب اس ایشو کو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سطح پر لانے کی کوشش کرے گا۔ یہ کوشش اس مہینے (دسمبر) میں ہی ہوگی جب ہندوستان اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ایک مہینے کے لیے صدر بن رہا ہے۔

      ہندوستان کی طرف سے یو این میں 14 دسمبر کو موجودہ کثیرالجہتی ڈھانچے میں تبدیلی کو لے کر اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کی گئی ہے۔ اس میں وزیر خارجہ ایس جئے شنکر ہندوستانی وفد کی قیادت کرنے کے لیے امریکہ جارہے ہیں جہاں ہندوتان کی طرف سے یہ تجویز بھی رکھی جائے گی کہ یو این، ورلڈ بینک سمیت دیگر کثیرالجہتی تنظیموں کو کس طرح سے عالمی تبدیلیوں کے موافق بنایا جاسکتا ہے اور اس کے لیے کیا ٹھوس قدم اٹھانے چاہیے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ہندوستان نے اقوام متحدہ میں کہا-ہم نے یو این کے اندر مختلف آوازوں کو ظاہر کرنے کی کوشش کی

      یہ بھی پڑھیں:
      افغانستان میں رُکے ہوئے 20 پروجیکٹ پر دوبارہ کام شروع کرے گا ہندوستان! طالبان نے دیا اشارہ

      ہندوستان کو بنایا گیا ہے دو سالوں کے لیے غیر مستقل رکن
      وزارت خارجہ کے مطابق، ہندوستان کی طرف سے اس مدعے پر کھلی بحث کا انعقاد کیا گیا ہے تا کہ سبھی ملک اس پر آزادانہ اپنے خیال ظاہر کرسکیں۔ اس میں یو این کے جنرل سکریٹری انٹونیو گوٹیرس اور جنرل اسمبلی کے صدر کسابا کوروسی بھی حصہ لیں گے۔ ہندوستان دو سالوں کے لیے یو این ایس سی کا غیرمستقل رکن بنایا گیا ہے جس کی مدت 31 دسمبر 2022 کو ختم ہورہی ہے۔ ہر غیر مستقل رکن کو اس کی معیاد کےد وران دو مرتبہ دنیا کی سب سے بڑی پنچایت کی صدارت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ہندوستان نے اس معیاد کے دوران یو این ایس سی میں اصلاحات کو مرکزی بحث میں لانے کی کوشش کی ہے۔ اس کا اثر بھی ہوا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: