بالا کوٹ سے پہلے بھی پاکستان کے خلاف کی گئی تھی ائیر اسٹرائیک ، اس جگہ کو بنایا گیا تھا نشانہ : ہندوستانی فضائیہ

ہندوستانی فضائیہ نے بتایا ہے کہ اس سال فروری میں پاکستانی سرحد کے اندر بالا کوٹ میں واقعہ دہشت گردوں کے کیمپ پر کی گئی ائیر اسٹرائیک سے پہلے بھی فضائیہ ایسے کارنامے انجام دے چکی ہے ۔

Jun 24, 2019 01:39 PM IST | Updated on: Jun 24, 2019 01:52 PM IST
بالا کوٹ سے پہلے بھی پاکستان کے خلاف کی گئی تھی ائیر اسٹرائیک ، اس جگہ کو بنایا گیا تھا نشانہ : ہندوستانی فضائیہ

علامتی تصویر

ہندوستانی فضائیہ نے بتایا ہے کہ اس سال فروری میں پاکستانی سرحد کے اندر بالا کوٹ میں واقعہ دہشت گردوں کے کیمپ پر کی گئی ائیر اسٹرائیک سے پہلے بھی فضائیہ ایسے کارنامے انجام دے چکی ہے ۔ ہندوستانی فضائیہ کے مطابق کرگل جنگ کے بعد پاکستانی سرحد کے اندر ائیراسٹرائیک کی گئی تھی ۔ ہندوستانی فضائیہ کے سینٹرل کمانڈ کے ائیر آفیسر کمانڈنگ ان چیف راجیش کمار نے کہا کہ سال 2002 میں بھی ایل او سی کراس کرکے پاکستان مقبوضہ کشمیر کے کیل سیکٹر میں واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ائیر اسٹرائیک کی گئی تھی ۔ اس ائیر اسٹرائیک میں میراج جنگی طیاروں کا استعمال کیا گیا تھا ۔

کرگل جنگ کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر ہندوستانی فضائیہ کے افسر راجیش کمار نے مدھیہ پردیش میں ایک پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2002 میں کی گئی اس ائیر اسٹرائیک میں لیزر گائیڈیڈ بموں کا استعمال کیا گیا تھا ۔ دو اگست 2002 کو یہ ائیر اسٹرائیک کی گئی تھی ۔ پی او کے میں ائیر اسٹرائیک کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کردیا گیا تھا ۔

Loading...

نیوز 18 انڈیا کے نامہ نگار سندیپ بول کے مطابق اس سے پہلے کبھی ایسے آپریشن کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا ۔ حالانکہ پیر کو بتایا گیا کہ ہندوستانی فضائیہ نے دو اگست 2002 کو پی او کے میں تین سے چار کلو میٹر اندر جاکر ائیر اسٹرائیک کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ۔ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد سال 2002 میں آپریشن پراکرم کے دوران یہ ائیر اسٹرائیک کی گئی ۔

بتایا گیا کہ 29 جون 2002 کو پتہ چلا کہ پی او کے کے اندر کچھ مشتبہ سرگرمیاں ہورہی ہیں ۔ اس کے بعد یکم جون کو علاقہ کی ریکی کی گئی اور دو جون کو لیزر گائیدیڈ بموں سے ائیر اسٹرائیک کی گئی ۔ طیاروں نے گوالیار بیس سے اڑان بھری تھی ۔

Loading...