உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہندوستانی فضائیہ کا مگ جنگی طیارہ بنا توجہ کا مرکز

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہندوستانی فضائیہ کا مگ جنگی طیارہ بنا توجہ کا مرکز

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہندوستانی فضائیہ کا مگ جنگی طیارہ بنا توجہ کا مرکز

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہلا ادارہ نہیں ہے، جہاں جنگ میں استعمال ہونے والا آلہ رکھا ہوا ہے ۔ اے ایم یو میں کئی سالوں سے مگ 23 جنگی جہاز کیمپس کی زینت بنا ہوا ہے ۔ میکینکل انجینئرنگ محکمہ کے باہر اس کو رکھا گیا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Uttar Pradesh | Aligarh | Lucknow
    • Share this:
      علی گڑھ : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہلا ادارہ نہیں ہے، جہاں جنگ میں استعمال ہونے والا آلہ رکھا ہوا ہے ۔ اے ایم یو میں کئی سالوں سے مگ 23 جنگی جہاز کیمپس کی زینت بنا ہوا ہے ۔ میکینکل انجینئرنگ محکمہ کے باہر اس کو رکھا گیا ہے ۔ بتادیں کہ ہندوستانی فضائیہ نے تحفہ میں اے ایم یو انتظامیہ کو 2009 میں مگ 23 بی این دیا تھا ۔ ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے پرنسپل پروفیسر مسلم تاج محمد نے اس کو حاصل کیا تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم نریندر مود نے نیتاجی سبھاش چندر بوس کے مجسمے کی نقاب کشائی


      چھ مارچ 2019 کو طیارہ نے آخری مرتبہ اڑان بھری تھی ۔ تقریبا 28 سال تک یہ ہندوستانی فضائیہ کے بیڑے میں شامل رہا اور ملک کی کئی لڑائیوں میں اپنے جوہر دکھایا ۔ بعد میں اس کے کچھ پرزے نکال کر فضائیہ نے اے ایم یو کیمپس میں رکھوا دیا ۔

      ہندوستانی فضائیہ کی یاد دلانے والے اس طیارہ کے پاس اب یونیورسٹی گھومنے آنے والے لوگوں کے قدم سیلفی لینے کیلئے ضرور رکتے ہیں ۔ طلبہ کیلئے بھی طیارہ توجہ کا مرکز ہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے میکینکل انجنیئرنگ طلبہ کو طیارہ و اس کے انجن کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے، جس کو طلبہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: نتیش اور ہیمنت کے ساتھ آسکتی ہیں ممتا بنرجی، 2024 کے لوک سبھا انتخابات کی تیاری شروع


      اے ایم یو کے پی آر او عمر پیرزادہ نے بتایا کہ اس طرح کے جنگی طیارے ، آرٹیگلری گن ، ٹینک جب ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں تو ہندوستانی فوج کے ذریعہ خواہ وہ بری فوج ہو، بحری فوج ہو یا فضائیہ ہو ، کسی تعلیمی ادارے کو اس لئے دے دیا جاتا ہے تاکہ وہاں کے طلبہ اس سے ترغیب پاسکیں اور ملک کیلئے اس طرح کی ایجادات خود سے کرسکیں ، جس سے نہ صرف ایسے فائٹر جیٹ ہندوستان میں بنائے جاسکیں بلکہ اس سے بہتر ایجادات کی جاسکیں ۔

      دراصل ہندوستانی فضائیہ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو سال 2009 میں مائیکو یان مگ 23 بی این جنگی طیارے کو تحفہ میں دیا تھا ۔ اس کو اے ایم یو کے انجینئرنگ محکمہ کے باہر ایک علامت کے طور پر نصب کردیا گیا تھا ۔ اس کا استعمال ایئرفورس نے کئی اہم جنگوں میں کیا تھا ۔ تقریبا 28 سال تک یہ ہندوستانی فضائیہ میں رہنے کے بعد اس طیارہ کو ریٹائر کرتے ہوئے اے ایم یو تحفہ میں دیدیا گیا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: