ہوم » نیوز » وطن نامہ

جموں وکشمیر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پاکستانی پروپیگنڈے کوہندوستان نے ایسا بنایا ناکام

پاکستان کشمیر کے بارے میں مسلسل پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا ہے اور اس کے لئے وہ کسی بھی پلیٹ فارم کو استعمال کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے لے کرسلامتی کونسل یا یو این جی اے میں عمران خان کے خطاب تک ، پاکستان اپنے منفی رویے کی وجہ سے دنیا کے سامنے کشمیرکی جھوٹی تصویر پیش کرنے میں ناکام رہا ہے

  • Share this:
جموں وکشمیر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پاکستانی پروپیگنڈے کوہندوستان نے ایسا بنایا ناکام
جموں وکشمیر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعدپاکستانی پروپیگنڈے کوہندوستان نےایسے بنایا ناکام

ریندرمودی حکومت کی جانب سے 5 اگست کو جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے پاکستان کشمیر کے بارے میں مسلسل پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا ہے اور اس کے لئے وہ کسی بھی پلیٹ فارم کو استعمال کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے لے کرسلامتی کونسل یا یو این جی اے میں عمران خان کے خطاب تک ، پاکستان اپنے منفی رویے کی وجہ سے دنیا کے سامنے کشمیرکی جھوٹی تصویر پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس نے کوشش کی لیکن پاکستان کو ہرمرحلے کا سامنا کرنا پڑا، کیوں کہ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے وزارت خارجہ پوری دنیا میں پاکستانی پروپیگنڈے کو ناکام بنانے اور کشمیر کی اصل تصویرکودنیا کو بتانے میں کامیاب رہی۔

ای میل کے ذریعہ دنیا کے سامنے پیش کی گئی کشمیر کی سچی تصویر

ہندوستانی سفارت خانے، کشمیر کے حوالے سے پاکستانی سازشوں کا بھرپورجواب دینے کے لئے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ذرائع نے نیوز18 کو بتایا کہ دنیا بھ کے ہندوستانی سفارت خانوں نے ای میل کے ذریعے ان ممالک میں مقیم اہم افراد اورگروپوں کوکشمیر کی صورتحال سے متعلق باضابطہ معلومات فراہم کی ہے۔ نیوز18 کے پاس ایک ای میل کی کاپی ہے جوامریکہ میں ہندوستانی سفارتخانے نے امریکہ میں مقیم ہندوستانیوں کو لکھی ہے۔ اس ای میل میں ، کشمیرکی موجودہ صورتحال کے بارے میں باضابطہ معلومات فراہم کی گئی ہے، یہ ای میل 9 اکتوبر کی شام کو بھیجا گیاہے۔

 نیوز18 کے پاس ایک ای میل کی کاپی ہے جوامریکہ میں ہندوستانی سفارتخانے نے امریکہ میں مقیم ہندوستانیوں کو لکھی ہے۔ نیوز18 کے پاس ایک ای میل کی کاپی ہے جوامریکہ میں ہندوستانی سفارتخانے نے امریکہ میں مقیم ہندوستانیوں کو لکھی ہے۔ ای میل میں کشمیر کی صورتحال سے متعلق معلومات کو بتایا گیا ہے کہ کشمیرمیں ضروری اشیاء کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کھانے پینے اور بچوں کے کھانے سے متعلق سامان بھی موجود ہے۔ اسپتال بھی عام طورپرکام کر رہے ہیں اورادویات کی بھی کمی نہیں ہے۔ کشمیرمیں، 10 ضلعی اسپتال ، 33 ذیلی ضلع اسپتال اور 222 پرائمری ہیلتھ سینٹر، 604 ذیلی صحت مراکز لوگوں کا علاج کررہے ہیں۔ ریاست میں بھی اے ٹی ایم کام کررہے ہیں اور نقد کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ای میل میں بتایا گیا ہے کہ ہندواڑہ اور کپواڑہ سمیت 22 اضلاع میں سے 14 اضلاع میں لینڈ لائن سروس بحال کردی گئی ہے اور موبائل سروس بحال کردی گئی ہے۔ میڈیا پر بھی نہیں ہے کوئی پابندی ای میل میں بتایا گیا ہے کہ میڈیا پرکوئی پابندی نہیں ہے، 37انگریزی ، 53اردو اور2 کشمیری اخبارات شائع ہورہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ، نماز جمعہ کے لئے بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ ای میل میں، 24 اکتوبر کوکشمیرمیں ہونے والے بی ڈی سی انتخابات کے بارے میں بھی معلومات دی گئی ہیں۔ ای میل میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے کشمیری رہنماؤں کو پارٹی ممبران سے ملاقات کی اجازت بھی دی گئی ہے، جن میں فاروق عبداللہ ، عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی شامل ہیں۔  نیوز18 کے پاس ایک ای میل کی کاپی ہے جوامریکہ میں ہندوستانی سفارتخانے نے امریکہ میں مقیم ہندوستانیوں کو لکھی ہے۔ نیوز18 کے پاس ایک ای میل کی کاپی ہے جوامریکہ میں ہندوستانی سفارتخانے نے امریکہ میں مقیم ہندوستانیوں کو لکھی ہے۔ خوف کی فضا پیدا کرنے والے دہشت گرد ان ای میلس میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں کوئی بھی پُرتشدد واقعہ پیش نہیں آیا اور نہ ہی گولی چلانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ مقامی مظاہروں کوقابوپانے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے گئے ہیں۔ لیکن حزب اللہ ، جیش اور لشکر جیسی دہشت گرد تنظیمیں کشمیرمیں خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں اور نوجوانوں، سرکاری ملازمین، دکانداروں کو پوسٹرلگا کرہڑتال میں شامل ہونے پرمجبورکیا جارہا ہے۔
First published: Oct 11, 2019 09:36 PM IST