உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia-Ukraine War: ہندوستان ہی نہیں پاکستانی طلبہ کیلئے بھی ترنگا بنا لائف جیکٹ، یوکرین سے رانچی لوٹے طلبہ کی آنکھوں دیکھی

    Russia-Ukraine War: ہندوستان ہی نہیں پاکستانی طلبہ کیلئے بھی ترنگا بنا لائف جیکٹ، یوکرین سے رانچی لوٹے طلبہ کی آنکھوں دیکھی

    Russia-Ukraine War: ہندوستان ہی نہیں پاکستانی طلبہ کیلئے بھی ترنگا بنا لائف جیکٹ، یوکرین سے رانچی لوٹے طلبہ کی آنکھوں دیکھی

    Russia-Ukraine War: بدھ کی شام یوکرین سے چار طلبہ رانچی ایئرپورٹ پر پہنچے ۔ ان میڈیکل اسٹوڈینٹس کے چہرے پر اب خوف کا سایہ نہیں ہے ، مگر جیسے ہی یوکرین کی بحث چھڑتی ہے تو جنگ اور موت کا خوف آنکھوں میں ابھر آتا ہے ۔

    • Share this:
      رانچی : روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے درمیان یوکرین میں پھنسے جھارکھنڈ کے طلبہ کے گھر لوٹنے کا سلسلہ لگاتار جاری ہے ۔ بدھ کی شام یوکرین سے چار طلبہ رانچی ایئرپورٹ پر پہنچے ۔ ان میڈیکل اسٹوڈینٹس کے چہرے پر اب خوف کا سایہ نہیں ہے ، مگر جیسے ہی یوکرین کی بحث چھڑتی ہے تو جنگ اور موت کا خوف آنکھوں میں ابھر آتا ہے ۔ یہ سبھی لوگ ہندوستانی ترنگے کو سینے سے لگائے بتاتے ہیں کہ کیسے اس ترنگے نے انہیں الگ شناخت دی اور ان کی زندگی بچائی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : یوکرین کے بعد روس کا اگلا نشانہ ہے یہ ملک! بیلا روس کے صدر کے Battle Map نے کھولا راز


      بوکارو کے تابش احمد نے بتایا کہ وہ کسی طرح یوکرین ۔ رومانیہ بارڈر پر پہنچے تھے ۔ وہاں کافی ٹھنڈ تھی ۔ اس ٹھنڈ کے موسم میں وہاں پر میڈیکل کے طلبہ کی تعداد کافی تھی ۔ سبھی لوگ اپنے اپنے گھر لوٹنے کو بے تاب تھے ، لیکن کسی کو بھی رومانیہ میں انٹری نہیں دی جارہی تھی ۔ ایسے میں ہندوستانی طلبہ نے ایک سادے کاغذ پر ترنگا بنایا اور اسی ترنگے سے انہیں آگے بڑھنے میں مدد ملی ۔ تابش نے بتایا کہ ترنگے نے صرف ہندوستانی طلبہ کو ہمت نہیں دی بلکہ اسی ترنگے کے سہارے پاکستان اور نائیجیریا کے طلبہ بھی آگے بڑھنے لگے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : ہندوستان چاہ کر بھی روس کی مخالفت کیوں نہیں کرسکتا؟ 10 پوائنٹس میں جانئے اس کی وجوہات


      اپنے گھر لوٹ کر کافی پرجوش نظر آرہے رانچی کے پریانشو گپتا نے بتایا کہ ان کا اور ان کے دوستوں کا جس ملک کی فوج سے سامنا ہوا ، سبھی نے انہیں ہندوستانی ترنگے کو ساتھ رکھنے کا مشورہ دیا ۔ یہاں تک کہ رومانیہ بارڈر میں انٹری کے وقت بھی ہندوستانی ترنگا ہی ان کی سب سے بڑی شناخت بنا ۔ اسی جھنڈے کے ساتھ پاکستان سمیت دیگر ممالک کے طلبہ نے بھی رومانیہ میں انٹری کی ۔

      وہیں گوڈا کی شرتی سمن نے بتایا کہ ہمارے پیسے ختم ہونے لگے تھے ۔ کھانے پینے کو بھی کچھ نہیں تھا ۔ ایسے میں ایک دوسرے کا ہی سہارا تھا ۔ شرتی نے بتایا کہ رومانیہ میں انٹری کرنے کے بعد ہندوستانی سفارت خانہ کی جانب سے فورا فلائٹ کا بندوبست کیا گیا اور ان کی گھر واپسی ممکن ہوئی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: