ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

سیاسی قیادت سے محروم ہندوستانی مسلمان آج قائد کے بغیر ہی سنبھال رہا ہے احتجاج کا محاذ ، جانیں کیوں ؟

اب یہ کہنا غیر مناسب نہیں ہوگا کی مسلم سماج بدل رہا ہے ۔ نوجوان فساد کی سیاست سے دور اپنے روزی روٹی کا سوال کرنے لگا ہے ۔

  • Share this:
سیاسی قیادت سے محروم ہندوستانی مسلمان آج قائد کے بغیر ہی سنبھال رہا ہے احتجاج کا محاذ ،  جانیں کیوں ؟
سیاسی قیادت سے محروم مسلمان آج قائد کے بغیر ہی سنبھال رہا ہے احتجاج کا محاذ، جانیں کیوں؟

آخر مسلمانوں کی ایسی حالت کیوں ہوگئی ۔ سیاسی میدان میں قیادت کرنے والا یہ سماج ملک میں حاشیہ پر کیوں کھڑا ہے ۔ آج اپنے وجود کا حوالہ دے کر سی اے اے اور این آر سی پر مسلمانوں کا بڑا طبقہ احتجاج کرتا نظر آرہا ہے ، حالانکہ اس احتجاج میں مختلف سماج کے لوگ شرکت کر رہے ہیں ، لیکن مسلمانوں کی نفسیات منفرد ہے ۔ آئیے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔


ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کا وجود میں آنا صحیح معنوں میں ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی کمر کو توڑنے کے مترادف ثابت ہوا ۔ پاکستان ایک الگ ملک بن گیا ، پاکستان کے مسلمانوں کی کیا صورت حال ہوئی یہ پاکستان جانے ، لیکن ہندوستان کے مسلمانوں کا مسئلہ پاکستان بننے سے ایسا بڑھا کی بڑھتا ہی چلاگیا ۔ پاکستان کو بنانے میں آج کے ہندوستان کا مسلمان ذمہ دار تو نہیں ہے ، لیکن ہمیشہ کٹگھرے میں کھڑا ضرور ہوتا رہا ہے ۔ بدلتے سیاسی منظر نامہ میں ہندوستان کا مسلمان پاکستان کے نام سے بھی ڈرتا ہے ، پاکستان سے نفرت کرتا ہے، لیکن سیاسی بساط پر پاکستان کے مہرہ کی چال آج بھی کام کرجاتی ہے۔


ملک کی آزادی میں اپنی جان کی بازی لگانے والا مسلم سماج اپنے حق کی بات کرتا رہا ہے۔ سیکولر ہندوستان میں ووٹوں کی گنتی کے سہارے سیاسی حصہ داری کا سوال بھی اٹھاتا رہا ہے لیکن ان کے سوالوں کو نظرانداز کر کے ان کے ووٹوں سے کئی سیاسی پارٹیوں کی سیاسی دکان چلتی رہی ہے۔


ملک کی آزادی میں اپنی جان کی بازی لگانے والا مسلم سماج اپنے حق کی بات کرتا رہا ہے۔


آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کو فرقہ ورانہ فساد کی چکی میں پسنا پڑا۔ 1962 میں جبل پور سے شروع ہوا فرقہ ورانہ فساد مسلمانوں کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا ۔ تقسیم کا زخم ابھی ہرا ہی تھا کہ فساد کی آگ وجود کو جھلسانے لگی ۔ پھر کیا تھا 1969 میں احمدآباد ، 1980 میں مرادآباد ،  1981 میں بہار شریف ، 1982 میں میرٹھ اور بروڈا، 1984 میں سیکھ دنگا ، 1984 میں بھیونڈی بمبئ دنگا ، 1985۔86 میں احمد آباد ، 1987 میں میرٹھ ، 1989 میں بھاگل پور اور  1990 میں حیدرآباد ، کرناٹک ، گجرات ، اتر پردیش اور بابری مسجد کو گرانے سے 1992-93 میں ممبئی ، سورت ، احمدآباد ، کانپور، دہلی اور مزید کئی جگہوں پر فسادات ہوئے ۔ ہزاروں لوگ مارے گئے ، جس میں مسلمانوں کی بڑی تعداد تھی ، کروڑوں کا املاک نقصان ہوا اور ان کا کاروبار تباہ ہوا ۔فساد یا فساد کی سیاست نے مسلمانوں کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ۔ بنیادی سوال پیچھے چھوٹ گیا اور محض حفاظت کی ضمانت پر مسلم طبقہ سیاسی پارٹیوں کو ووٹ کرنے لگا ، آج بھی کم یا زیادہ یہی صورت حال برقرار ہے۔

آزادی سے پہلے مسلمانوں کے پاس دو طرح کی قیادت موجود تھی ۔ ایک سیاسی قیادت اور دوسری مذہبی قیادت۔ 1947  کے بعد سیاسی قیادت پوری طرح سے ختم ہوگئی ۔ ہندوستان کا مسلمان مذہبی قیادت کے زیر اہتمام زندگی گزارنے لگا ۔ مسلم تنظیموں نے مسلمانوں کا مسیحا بننے کا دعویٰ کیا اور اس کا اثر مسلم سماج پر آج بھی صاف طور سے دیکھا جارہا ہے ، لیکن مسلمانوں کو کیا ملا ۔ جمیعت علما ، جماعت اسلامی ، امارت شرعیہ ، ادارہ شرعیہ ، ملی کونسل وغیرہ اس کے علاوہ مذہبی گروپ جیسے سنی ، شیعہ ، وہابی ، دیوبندی ، بریلوی ، تبلیغی جماعت ۔ مسلمانوں کی تنظیم یا مسلمانوں کا مذہبی گروپ الگ الگ طریقہ سے مسلمانوں کے مسئلہ پر اپنی آواز اٹھاتا رہا ۔ کسی کو تھوڑی کامیابی ملی اور کسی کو نہیں ملی ۔ کسی نے مسلمانوں کو دکھا کر سیاسی فائدہ حاصل کیا تو کسی نے مذہب کا نعرہ دیکر سماج میں اپنی لیڈرشپ قائم کی ۔ سب کچھ ہوا ، لیکن مسلمانوں کا بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوا ۔ ان تنظیموں نے مسلمانوں کو حکومت پر منحصر کرنے کا راستہ ہموار کیا ۔ کوئی بھی کام ہو ، حکومت ذمہ دار ہے۔ مسلمان خود کھڑا ہوکر اپنے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش میں کافی پیچھے چھوٹتا چلا گیا۔

ملک کی مختلف ریاستوں میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کررہی خواتین دھرنے پر بیٹھ رہی ہیں ۔


اب سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی ان کے گھروں کی دہلیز پر دستک دینے والی ہے۔ سماج کو محسوس ہورہا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کا دامن تھامے مسلم لیڈران کہاں ہیں ، جو ان کے ووٹوں پر ان کی حفاظت کا دعویٰ کررہے تھے ۔ ساتھ ہی مسلم تنظیموں کے سربراہان کہاں ہیں ، جو صرف تقریر کرنے کے لئے آتے ہیں تو مسلمان ان کے اسٹیج بنوانے پر لاکھوں روپے خرچ کردیتا ہے۔ ان سب سوالوں کے درمیان برسوں سے جی رہی خواتین نے قیادت سنبھال لی ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کررہی خواتین دھرنے پر بیٹھ رہی ہیں ۔ دن میں بھی اور رات میں بھی ۔ کڑاکے کی سردی میں اور بارش کی موجودگی میں بھی ۔ یہ صرف سی اے اے اور این آر سی کا احتجاج نہیں ہے ، بلکہ اپنے وجود کو بچانے ، اپنی پسماندگی دور کرنے ، ناخواندگی کو مٹانے ، سیاسی حصہ داری حاصل کرنے اور ملک کی آئین کی حفاظت کا احتجاج ہے ۔ احتجاج میں شرکت کررہی خواتین کے مطابق آئین کی حفاظت ملک سے محبت اور بھائی چارہ کا فروغ احتجاج کا خاص مقصد ہے ۔

اب یہ کہنا غیر مناسب نہیں ہوگا کی مسلم سماج بدل رہا ہے ۔ نوجوان فساد کی سیاست سے دور اپنے روزی روٹی کا سوال کرنے لگا ہے ۔ احتجاج کا رنگ یہ بتاتا ہے کہ امن و امان اور بھائی چارہ ہی ملک کی اصل پونجی ہے ، جس کی حفاظت کرنا ہر شہری کا فرض ہے ۔ خواہ اس کا تعلق سیاست سے ہو یا سماج سے ہو اور جمہوریت میں احتجاج کو ایک خوبصورت عبارت کے طور پر دیکھا جاتا ہے نہ کی کسی جنگ کے طور پر ۔ جب بات ہندوستان جیسے ملک کی جمہوریت کی ہو ، تو احتجاج کا شکل بھی بڑا ہوتا ہے اور احتجاج میں الگ الگ رنگوں کی تصویریں بھی دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔
First published: Jan 18, 2020 09:12 PM IST