உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستانی بحریہ نے دو امریکی پریڈیٹر ڈرون کو لیز پر لیا ، چین سرحد پر کیا جاسکتا ہے تعینات

    ہندوستانی بحریہ نے دو امریکی پریڈیٹر ڈرون کو لیز پر لیا ، چین سرحد پر کیا جاسکتا ہے تعینات

    ہندوستانی بحریہ نے دو امریکی پریڈیٹر ڈرون کو لیز پر لیا ، چین سرحد پر کیا جاسکتا ہے تعینات

    چین سے کشیدگی کے درمیان امریکی پریڈیٹر ڈرون ایک سال تک کیلئے لیز پر ہندوستانی بحریہ کے پاس رہیں گے ۔ 30 گھنٹے اڑان بھرنے کی صلاحیت والے ان ڈرونس کو مشرقی لداخ میں بھی تعینات کیا جاسکتا ہے ۔

    • Share this:
      ہندوستان اور امریکہ کے مضبوط رشتوں کا یہ اشارہ ہے کہ چین کے ساتھ سرحد پر جاری کشیدگی کے درمیان ہندوستانی بحریہ نے انڈین اوشین میں دو پریڈیٹر ڈرون تعینات کئے ہیں ۔ ضرورت پڑی تو ان پریڈیٹرس ڈرون کو مشرقی لداخ میں ہندوستان ۔ چین سرحد پر بھی تعینات کیا جاسکتا ہے ۔ بحریہ نے ان دونوں ڈرون کو ایک امریکی کمپنی سے لیز پر لیا ہے ۔

      امریکی ڈرونس کو بحریہ نے وزارت دفاع کے ذریعہ خریداری کیلئے دی گئی ایمرجنسی پاور کے تحت لیز پر لیا ہے ۔ چین کے ساتھ سرحد پر جاری کشیدگی کے درمیان وزارت دفاع نے مسلح افواج کو ایمرجنسی کی صورت میں خریداری کرنے کا اختیار دیا ہے ۔

      اے این آئی کے مطابق نومبر کے دوسرے ہفتے میں یہ ڈورن ہندوستان آئے اور 21 نومبر کو انہیں آئی این ایس راجالی بحریہ بیس پر فلائنگ آپریشنز میں شامل کیا گیا ۔ دونوں ڈرون نے اڑان بھرنی شروع کردی ہے اور ان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک مرتبہ میں 30 گھنٹوں تک ہوا میں رہ سکتے ہیں۔ اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ بحری سیکورٹی کیلئے پریڈیٹر ڈرون کافی مددگار ثابت ہورہے ہیں ۔


      امریکی کمپنی کی جانب سے کرو ٹیم بھی ہندوستان آئی ہے اور بحریہ کو تکنیکی طور پر مدد کررہی ہے ۔ تاکہ ڈرون کے آپریشنز میں کسی طرح کی پریشانی پیش نہ آئے ۔ ہندوستانی رنگوں میں اڑان بھر رہے ڈرون اگلے ایک سال تک لیز پر بحریہ کے پاس رہیں گے ۔ ہندوستانی فوج آنے والے دنوں میں اس طرح کے 18 ڈرون تحویل میں لینے کے بارے میں غور و خوض کررہی ہے ۔

      ذرائع کے مطابق چین کے ساتھ سرحد پر جاری کشیدگی کے درمیان ہندوستان اور امریکہ مل کر کام کررہے ہیں ۔ ہندوستان کو امریکہ سے سرویلانس اور انفارمیشن کے ساتھ کئی شعبوں میں بڑی مدد مل رہی ہے ۔

      رپورٹ کے مطابق امریکی سپورٹ اسٹاف بحریہ کو صرف تکنیکی معاملات میں ہی مدد کرے گا جبکہ اڑان کا منصوبہ اور کنٹرول کی کمان بحریہ کے پاس رہے گی ۔ ساتھ ہی اڑان کے دوران ڈرون کے ذریعہ حاصل کئے گئے ڈیٹا بھی بحریہ کی ایکسکلوزیو پراپرٹی ہوگی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: