ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اب ملک میں چلائی جائیں گی پرائیویٹ ٹرین، مرکزی حکومت نے طلب کی درخواستیں

مرکزی حکومت پرائیویٹ سیکٹرکی شراکت داری میں مسافر ٹرینوں کو چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کےلئے وزارت ریل نے پرائیویٹ سیکٹرکی کمپنیوں سے مسافر ٹرینوں کی آپریٹنگ کے لئے ریکویسٹ فار کوالیفکیشن طلب کیا ہے۔

  • Share this:
اب ملک میں چلائی جائیں گی پرائیویٹ ٹرین، مرکزی حکومت نے طلب کی درخواستیں
اب ملک میں چلائی جائیں گی پرائیویٹ ٹرین، مرکزی حکومت نے طلب کی درخواستیں

نئی دہلی: مرکزی حکومت پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت داری میں مسافر ٹرینوں (Passenger Trains) کو چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کے لئے وزارت ریل (Ministry of Railways) نے پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں (Private Participation) سے مسافر ٹرینوں کی آپریٹنگ کے لئے ریکویسٹ فار کوالیفکیشن (RFQ) طلب کیا ہے۔ وزارت ریل کے مطابق، پورے ملک کے ریلوے نیٹ ورک کو 12 کلسٹر میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انہیں میں 109 جوڑی پرائیویٹ ٹرینیں (Private trains) چلائی جائیں گی۔ اس اسکیم میں تقریباً 30,000  کروڑ روپئے کی پرائیویٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔ یہ انڈین ریلوے نیٹ ورک پر پیسنجر ٹرینوں کو چلانے کے لئے پرائیویٹ سرمایہ کاری کی پہل ہے۔


160 کی رفتار سے دوڑیں گی 16 ڈبے کی پرائیویٹ ٹرینیں


سرکاری نوٹیفیکشن کے مطابق، اس پہل کا مقصد ماڈرن ٹکنا لوجی رولنگ اسٹاک کو ریلوے نیٹ ورک میں پیش کرنے کے ساتھ ہی کم دیکھ بھال، زیادہ رفتار، روزگار پیدا کرنے کو بڑھاوا دینا، زیادہ تحفظ فراہم کرنا، مسافروں کو عالمی سطح کے سفر کا تجربہ کرنا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہےکہ ہر پرائیویٹ ٹرین میں کم ازکم 16 ڈبے ہوں گے۔ یہ ٹرینیں زیادہ سے زیادہ 160 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑیں گی۔ ان ٹرینوں کا رولنگ اسٹاک پرائیویٹ کمپنی خریدے گی۔ مینٹیننس کی ذمہ داری بھی اسی کمپنی کی ہوگی۔ بیشتر ٹرینیں میک ان انڈیا کے تحت ہندوستان میں بنائی جائیں گی۔ پرائیویٹ کمپنی گاڑیوں کی مالی اعانت، خریداری، چلانے اور دیکھ بھال کی ذمہ دار ہوگی۔


پرائیویٹ سیکٹر کے اسکیم کی رعایت مدت 35 سال ہوگی

پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت داری میں چلائی جانے والی ان ٹرینیوں کی رفتار 160 کلو میٹر فی گھنٹہ ہونے سے سفر کے وقت میں کافی بچت ہوگی۔ ان ٹرینوں کی رفتار کے مقابلے اسی روٹ پر چلنے والی انڈین ریلوے کی طرف سے کسی بھی سب سے تیز رفتار والی ٹرین سے ہوگی۔ وزارت ریل کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، ان ٹرینوں کے ذریعہ مسافروں کے مقابلے ٹرینوں کی کم تعداد کی بھرپائی بھی ہو جائے گی۔ پرائیویٹ سیکٹر کےلئے اس اسکیم کی (Concession Period) رعایت مدت 35 سال ہوگی۔

پرائیویٹ کمپنی انڈین ریلوے کو کرے گی ادائیگی

پرائیویٹ کمپنی انڈین ریلوے کو مقررہ ڈھلائی چارج، اصل کھپت کے مطابق توانائی چارج اور شفاف  محصولات عمل کے ذریعہ محصولات میں شراکت کی ادائیگی کرے گی۔ پرائیویٹ کمپنی کی طرف سے چلائی جانے والی گاڑیوں کی کارکردگی کی تشخیص وقت کی پابندی (Punctuality)، معتبریت (Reliability)، ریل گاڑیوں کی دیکھ بھال (Maintenance) کی بنیاد پر ہوگی۔ پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے چلائی جانے والی ٹرینوں کے لئے انڈین ریلوے صرف ڈرائیور اور گارڈ دستیاب کرائےگا۔
First published: Jul 01, 2020 10:14 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading