உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوکرین-روس کی ’جنگ‘ کے درمیان پھنسے 200 سے زیادہ ہندوستانی طلبہ، کیف میں ہندوستانی سفارتخانے جمع کر رہا ہے سبھی کی جانکاری

    یوکرین میں پڑھائی کررہے ہندوستانی طلبہ سے مانگی گئیں تفصیلات۔

    یوکرین میں پڑھائی کررہے ہندوستانی طلبہ سے مانگی گئیں تفصیلات۔

    یوکرین میں میڈیسن اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلباء پھنس گئے ہیں۔ یہ طلباء حیدرآباد کے رہنے والے ہیں۔ ان طلباء کا کہنا ہے کہ وہ جنگ جیسی صورتحال میں اپنی پڑھائی نہیں کرنا چاہتے۔ اس وقت یہ لوگ آنے والے سیمسٹر کے لیے اپنی پڑھائی میں مصروف ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی:یوکرین اور روس (Ukraine-Russia) ایک طویل جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ ماسکو (Moscow)یوکرین کے ساتھ سرحد پر اپنی فوجیں تعینات کر رہا ہے۔ ان سب کے درمیان یوکرین میں میڈیسن اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلباء پھنس گئے ہیں۔ یہ طلباء حیدرآباد کے رہنے والے ہیں۔ ان طلباء کا کہنا ہے کہ وہ جنگ جیسی صورتحال میں اپنی پڑھائی نہیں کرنا چاہتے۔ اس وقت یہ لوگ آنے والے سیمسٹر کے لیے اپنی پڑھائی میں مصروف ہیں۔ یوکرین اور روس کے درمیان کافی عرصے سے کشیدگی چلی آ رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہاں کسی بھی وقت جنگ چھڑ سکتی ہے۔

      ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یوکرین میں زیر تعلیم سہیل محمد نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ آگے کیا ہونے والا ہے لیکن ہم نہیں چاہتے کہ ہماری پڑھائی متاثر ہو۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہمارا اگلا سیمسٹر یکم فروری سے شروع ہوگا۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے 200 کالج طلباء یوکرین میں اپنا ریسرچ کر رہے ہیں۔ کالج کے طلباء نے کیف(Kyiv) میں ہندوستانی سفارت خانے(Indian embassy) میں اپنا اندراج کرایا ہے۔ دھیرج، جو یوکرین میں اپنی میڈیسن کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نے کہا کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو سفارت خانہ انہیں بحفاظت ملک سے باہر بھیج دے گا۔

      ہندوستانی سفارتخانے نے لی طلبہ کی تفصیلات
      سفارت خانے کے اہلکاروں نے طلباء سے نام، عمر، جنس، پاسپورٹ نمبر، یوکرین میں مقام اور ہندوستان میں ان کا متعلقہ ریاست جیسی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا تھا۔ ان کے رابطہ نمبر یوکرین اور ہندوستان میں لیے گئے ہیں۔ طلباء سے کہا گیا ہے کہ وہ جس کالج میں زیر تعلیم ہیں اس کے بارے میں سفارت خانے کو مطلع کریں۔ سفارت خانے کی ویب سائٹ کے مطابق، تقریباً 18,000 ہندوستانی طلباء یوکرین کی مختلف یونیورسٹیوں میں میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

      طلبہ نے موجودہ صورتحال پر کیا کہا؟
      سہیل کے بھائی حسیب محمد نے کہا کہ میں نے اپنے بھائی کو فون کیا تو اس نے بتایا کہ نیپرو شہر کا ماحول پرامن ہے۔ وہ اس شہر میں رہ رہا ہے اور پڑھ رہا ہے۔ لیکن جب میں نے خبر دیکھی تو میں نے اسے سمجھایا کہ کیا ہو رہا ہے اور اسے ہوشیار رہنا چاہیے۔ فی الحال، اس نے خود کو ہندوستانی سفارت خانے میں رجسٹر کرایا ہے۔ Iviv علاقے کی رہنے والی جیوتی نے کہا کہ فی الحال حالات معمول پر ہیں، لیکن انہیں فارم بھرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ جیوتی نے کہا، یوکرین میں ہندوستان کے بہت سے طالب علم ہیں اور اگر وہاں سے انخلاء کے لیے ہنگامی صورتحال ہوتی ہے تو ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کیسے کیا جائے گا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: