ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہندوستان میں کورونا انفیکشن کی شرح میں کمی کب؟ کینبرج اسٹدی میں سامنے آئی یہ بڑی بات

کینبرج جج بزنیس اسکول Cambridge Judge Business School) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ نے پایا ہے کہ ہندوستان میں کورونا کا پیک گزر چکا ہے اور اب نئے معاملات میں کمی آتی جائے گی ۔ یہ دونوں ہی انسٹی ٹیوٹ کینبرج یونیورسٹی کا حصہ ہیں ۔

  • Share this:
ہندوستان میں کورونا انفیکشن کی شرح میں کمی کب؟ کینبرج اسٹدی میں سامنے آئی یہ بڑی بات
ہندوستان میں کورونا انفیکشن کی شرح میں کب کمی ؟ کینبرج اسٹدی میں سامنے آئی یہ بڑی بات

نئی دہلی : ہندوستان میں اب تقریبا ایک ہفتے سے ہر دن چار لاکھ سے کم کورونا کیسیز سامنے آرہے ہیں ۔ کینبرج جج بزنیس اسکول اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ نے پایا ہے کہ ہندوستان میں کورونا کا پیک گزر چکا ہے اور اب نئے معاملات میں کمی آتی جائے گی ۔ یہ دونوں ہی انسٹی ٹیوٹ کینبرج یونیورسٹی کا حصہ ہیں ۔


حالانکہ محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ اب ریاستوں میں کورونا کے نئے معاملات میں کافی فرق ہے ۔ جیسے کئی متاثرہ ریاستوں میں تعداد کم ہوئی ہے ، تو وہیں آسام ، ہماچل پردیش ، تمل ناڈو اور تری پورہ جیسی ریاستوں میں اگلے دو ہفتوں میں پیک آسکتی ہے ۔ اس درمیان متعدی بیماریوں کے ماہر شاہد جمیل نے کہا ہے کہ ابھی کورونا کی دوسری لہر کے خاتمہ میں کچھ اور مہینے کا وقت لگ سکتا ہے ۔ ممکن ہے کہ یہ لہر جولائی کے آخر تک ختم ہو ۔


ابھی دوسری لہر کے خاتمہ میں لگیں گے مزید کچھ مہینے


منگل کو وزارت صحت نے بتایا تھا کہ ملک کی نو ریاستوں میں اب نئے معاملات میں کمی آتی نظر آرہی ہے ۔ ان میں مہاراشٹر ، مدھیہ پردیش اور دہلی جیسی زیادہ متاثرہ ریاستیں بھی ہیں ، لیکن شاہد جمیل کا کہنا ہے کہ بھلے ہی ابھی کیسز کم ہوتے نظر آرہے ہوں ، لیکن دوسری لہر کا خاتمہ ہونے میں ابھی کچھ اور مہینے لگیں گے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں دوسری لہر کے بھیانک قہر کے پیچھے نئے ویریئنٹ بھی ذمہ دار ہوسکتے ہیں ، لیکن اس بات کے اشارے نہیں ہیں کہ یہ زیادہ خطرناک ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا کہ ملک میں دوسری لہر میں کیسز اتنی تیزی سے کم بھی نہیں ہوں گے جتنی تیزی سے عام طور پر دوسری یا تیسری لہر میں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔

شاہد جمیل کا کہنا ہے کہ پہلی لہر میں میں ایک دن میں ملک میں سب سے زیادہ مریضوں کی تعداد 96۔97 ہزار رہی تھی ، جو دوسری لہر میں تقریبا چار لاکھ ہے ، اس لئے اس لہر کو کم ہونے میں بھی وقت لگے گا ۔ ویسے بھی ابھی کئی ریاستیں ہیں جہاں پر نئے معاملات میں اضافہ ہورہا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 12, 2021 04:37 PM IST