உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستانی میں اعلی سطحی کنسورٹیم INSACOG نے کیا بوسٹر خوارک کی سفارش سے انکار، جانیے تفصیل

    انڈین SARS-CoV-2 کنسورٹیم آن جینومکس (INSACOG) قومی کنسورٹیم ہے۔ تصویر : dbtindia gov

    انڈین SARS-CoV-2 کنسورٹیم آن جینومکس (INSACOG) قومی کنسورٹیم ہے۔ تصویر : dbtindia gov

    بائیوٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اپنے تازہ ترین ہفتہ وار بلیٹن میں انڈین SARS-CoV-2 کنسورٹیم آن جینومکس (INSACOG) نے اس بات پر زور دیا کہ بوسٹر خوراک پر فیصلہ اس کے دائرہ کار میں نہیں آتا اور اس کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے بہت سے سائنسی تجربات کی ضرورت ہے۔

    • Share this:
      ہندوستان میں عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے جینوم کی ترتیب (genome sequencing) سے متعلق سرکاری اداروں کا ایک قومی کنسورٹیم انڈین SARS-CoV-2 کنسورٹیم آن جینومکس (INSACOG) نے 40 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے بوسٹر خوراک کی سفارش کو مسترد کردیا ہے۔

      بائیوٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اپنے تازہ ترین ہفتہ وار بلیٹن میں انڈین SARS-CoV-2 کنسورٹیم آن جینومکس (INSACOG) نے اس بات پر زور دیا کہ بوسٹر خوراک پر فیصلہ اس کے دائرہ کار میں نہیں آتا اور اس کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے بہت سے سائنسی تجربات کی ضرورت ہے۔

      اس میں کہا گیا ہے کہ بوسٹرز پر ہونے والی بحث کی نگرانی ماہر گروپس کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ جس میں نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ آن امیونائزیشن (NTAGI) اور نیشنل ایکسپرٹ گروپ آن ویکسین ایڈمنسٹریشن فار کووڈ۔19(NEGVAC) شامل ہیں۔ جو کہ مرکزی حکومت کی طرف سے تشکیل دیا گیا ہے اور اس ضمن میں INSACOG کو کسی بطی طرح کاحق نہیں ہے۔

      جنوبی افریقہ میں کورونا کے نئے ویرینٹ کی اطلاع کے بعد کورونا پروٹوکال پر عمل ضروری ہے- (shutterstock)
      جنوبی افریقہ میں کورونا کے نئے ویرینٹ کی اطلاع کے بعد کورونا پروٹوکال پر عمل ضروری ہے- (shutterstock)


      عالمی وبا کورونا وئرس (کووڈ۔19) کے نئے ویرینٹ اومی کرون کے خلاف چوکسی بڑھانے کے اقدام میں ہندوستان میں جینوم کی ترتیب کے ساتھ کام کرنے والے کنسورٹیم نے 29 نومبر کو ایک بلیٹن میں کہا تھا کہ ’’بقیہ تمام غیر ویکسین والے افراد کی ویکسینیشن اور 40 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لیے بوسٹر خوراک پر غور کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے زیادہ خطرے یا بیماریوں میں مبتلا لوگوں کے ضمن میں غور کیا جا سکتا ہے‘‘۔

      تجویز کے پیچھے استدلال کی وضاحت کرتے ہوئے کنسورٹیم نے کہا کہ ’’موجودہ ویکسین سے اینٹی باڈیز کو بے اثر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اومی کرون Omicron کو بے اثر کرنے کے لیے یہ کافی نہیں ہے۔ حالانکہ شدید بیماری کا خطرہ اب بھی باقی ہے‘‘۔ تاہم 4 دسمبر کے تازہ ترین بلیٹن میں INSACOG نے واضح کیا کہ یہ کوئی سفارش یا تجویز نہیں ہے۔

      بلیٹن میں مزید زور دیا گیا ہے کہ SARS-CoV-2 سے استثنیٰ اور تحفظ متعدد نامعلوم عوامل کے ساتھ ملٹی فیکٹوریل ہے اور تشویش کی ابھرتی ہوئی شکلوں سے مزید پیچیدہ ہے۔ اسی لیے بوسٹر ڈوز کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے بہت سے مزید سائنسی تجربات کی ضرورت ہے، جن کی رہنمائی اور نگرانی قومی ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ آن امیونائزیشن اور نیشنل ایکسپرٹ گروپ آن ویکسین ایڈمنسٹریشن برائے کر رہے ہیں۔

      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: