عالمی یوم خواتین : اکولہ کی مسلم لڑکیوں نے تعلیمی میدان میں بنائی اپنی الگ شناخت

اکولہ کی مسلم لڑکیاں تعلیمی میدان میں نہ صرف اعلیٰ مقام حاصل کر رہی ہیں بلکہ مسلم معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیم کو لے کرمنفی نظریہ کو بھی غلط ثابت کررہی ہیں ۔

Mar 09, 2018 12:01 AM IST | Updated on: Mar 09, 2018 12:01 AM IST
عالمی یوم خواتین : اکولہ کی مسلم لڑکیوں نے تعلیمی میدان میں بنائی اپنی الگ شناخت

اکولہ کی مسلم لڑکیوں نے اپنی صلاحیت کا لوہا منواتے ہوئے تمام تصورات کوغلط ثابت کر دیا ہے۔

اکولہ : کہتے ہیں کہ تعلیم تمام مسئلوں کا واحد حل ہے۔ اوراسی بات کو سمجھتے ہوئےاکولہ کی مسلم لڑکیاں تعلیمی میدان میں نہ صرف اعلیٰ مقام حاصل کر رہی ہیں بلکہ مسلم معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیم کو لے کرمنفی نظریہ کو بھی غلط ثابت کررہی ہیں ۔ عام طور پرمعاشی بدحالی، حجاب اور روایتی سوچ وغیرہ کو مسلم لڑکیوں کی ترقی کی راہ میں روکاٹ تصور کیا جاتا ہے ، لیکن ترقی کی اس دوڑ میں اکولہ کی مسلم لڑکیوں نے اپنی صلاحیت کا لوہا منواتے ہوئےان تمام تصورات کوغلط ثابت کر دیا ہے۔

اکولہ ضلع کی مسلم لڑکیاں تعلیمی میدان میں اس قدر آگے نکل رہی ہیں کہ دیگر طبقے کے لوگ بھی ان سے ترغیب حاصل کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال عمارہ خانم نامی لڑکی نے پوری طرح پردہ میں رہ کر بی ایس سی میں ٹاپ کیا اور کل آٹھ میڈل اپنے نام کئے۔ وہیں اس سال عرشی ڈوکاڑیا نے انگلش لیٹریچر میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کر سنت گاڑگے بابا یونیورسٹی میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ وہیں روہینا علی ہیں ، جو فوڈس سیفٹی ڈپارٹمنٹ میں سب انسپکٹر کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

روہینا کا تعلق انتہائی غریب خاندان سے ہے۔ ان کے والد چنے کا ٹھیلہ لگا کر گزر بسر کرتے رہے ہیں، لیکن روہینا نےاپنی انتھک محنت سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ معاشی بدحالی لڑکیوں کی ترقی کی راہ میں کبھی بھی روڑا نہیں بن سکتی ہے۔

Loading...

Loading...