ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

رمضان المبارک 2020: روزہ،طب،سائنس اور اسلام، روزے کے طبی فوائد

جہاں شرعی اعتبار سے روزہ روحانی پاکیزگی اور ایمانی تقدس کا ضامن ہے وہیں طبی نقطہءِ نظر سے روزہ انسانی جسم اور صحت کے لئے ایک ایسا عمل ہے جس کی کوئی دوسری نظیر نہیں

  • Share this:
رمضان المبارک 2020: روزہ،طب،سائنس اور اسلام، روزے کے طبی فوائد
روزے کی شرعی اہمت اپنی جگہ ہے لیکن طب اور سائنس کے اعتبار سے جو روزے کے فوائد ہیں

لکھنؤ: روزے کی شرعی اہمت اپنی جگہ ہے لیکن طب اور سائنس کے اعتبار سے جو روزے کے فوائد ہیں ان کی روشنی میں ڈاکٹرز یہی کہتے ہیں کہ انسانی صحت کی بہتری و بحالی کے لئے روزہ ناگزیر ہے۔ایک مشہور اسپتال ڈاکٹر سلمان خالد کہتے ہیں کہ روزے کا نظام طب اور سائنس کے احکام و احوال کے عین مطابق ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک سائنٹیفک مذہب ہے ۔


جہاں شرعی اعتبار سے روزہ روحانی پاکیزگی اور ایمانی تقدس کا ضامن ہے وہیں طبی نقطہءِ نظر سے روزہ انسانی جسم اور صحت کے لئے ایک ایسا عمل ہے جس کی کوئی دوسری نظیر نہیں۔ایک مہینے مسلسل روزے رکھنے والا انسان پورے سال کے لئے تندرست و توانا ہوجاتا ہے اور اس کا جسمانی و ا عضلاتی نظام مکمل طور پر درست ہوجاتا ہے یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسلام سائنٹیفک ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت جدید ترین بھی ہے اس لئے ایک طرف تو روزے رکھنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے دوسری جانب بیماری و آزاری اور دوسرے اہم عذر کی شکل میں روزے کو چھوڑا بھی جاسکتا ہے ۔


سلمان خالد کے مطابق شگر، گردے اور قلب و اذہان کے امراض میں مبتلا لوگ بغیر معالج کے مشورے کے قطعی روزے نہ رکھیں۔کیونکہ ایسے مریضوں کو پانی غذا اور دوا کے فقدان میں نقصان ہو سکتا ہے اسلامی شریعت کا مقصد انسان کی روح و جسم کو توانا و پاکیزہ کرنا ہے کسی کی جان لینا مقصد نہیں۔ لہٰذا وہ لوگ جو کسی بیماری کے تحت مستقل دوائیں کھاتے ہیں وہ اپنے معالج سے مشورہ کرکے ہی روزہ رکھیں ۔


موجودہ وبائی حالات اور فضا کے تناظر میں بھی نجی ہاسپٹل کی جانب سے خصوصی اڈوائزری جاری کی گئی ہے ۔جس میں ضروری نکات اور احتیاط کی طرف اشارے کئے گئے ہیں۔اور یہ بات واضح طور پر بتائی گئی ہے کہ ایک صحت مند انسان محض وبا ءکے خوف سے روزہ ترک نہ کرے۔لیکن اگر وہ وائرس کا شکار ہوا ہے تو روزہ رکھنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرلے کیونکہ شریعت کے احکام کا نفاذ انسانی زندگی کی بقاء میں مضمر ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Apr 27, 2020 10:47 AM IST