உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    25 گھنٹے کا کاونٹ ڈاون ختم...ISRO کو ملی کامیابی، PSLV-C52 سے اسپیس میں لانچ کی ارتھ آبزرویشن EOS-04اور دو چھوٹی سیٹلائٹ

    اسرو کو ملی بڑی کامیابی۔ (تصویر: ISRO)

    اسرو کو ملی بڑی کامیابی۔ (تصویر: ISRO)

    اس سیٹلائٹ کی مدت دس سال بتائی جاتی ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ ہندوستان کا اسرو سیٹلائٹ لانچ کرنے کے معاملے میں بہت آگے ہے۔ اس نے 1975 سے اب تک 36 ممالک کے 129 ہندوستانی اور 342 غیر ملکی سیٹلائٹ لانچ کیے ہیں۔ حال ہی میں، یہ معلومات ایٹمی توانائی اور خلائی وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے راجیہ سبھا میں دی۔ اسرو نے گزشتہ تین سالوں میں غیر ملکی سیٹلائٹس کے لانچ سے 80 کروڑ روپے کمائے ہیں۔

    • Share this:
      سری ہری کوٹہ:انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) نے سال کے پہلے لانچ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس نے آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے پیر کی صبح 5:59 بجے ریڈار امیجنگ سیٹلائٹ ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ(Earth Observation Satellite) (EOS-04) لانچ کیا ہے۔ یہ لانچ آندھراپردیش کے سری ہری کوٹہ میں ستیش دھون اسپیس سینٹر سے پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل PSLV-C52 کے ذریعے ہوا ہے۔ اس میں ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ EOS-04 اور دو چھوٹے سیٹلائٹس INSPIREsat-1 اور INS-2TD شامل ہیں۔


      تمام سیٹلائٹس کو تقریباً 25 گھنٹے کی الٹی گنتی کے بعد لانچ کیا گیا۔ جس کی وجہ سے اسرو کا 2022 کا پہلا مشن کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن نے کہا کہ PSLV-C52 نے EOS-04 کو 529 کلومیٹر کے فاصلے پر سورج کے قطبی مدار میں بھیجا ہے۔ EOS-04 ایک ریڈار امیجنگ سیٹلائٹ ہے، جو ہر موسم میں زمین کی اعلیٰ معیار کی تصاویر ISRO کو بھیجے گا۔ یہ تصاویر زراعت، جنگلات اور شجرکاری، مٹی کی نمی، ہائیڈرولوجی اور فلڈ میپنگ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔


      چھوٹی سیٹلائٹ کس نے تیار کیں؟
      اس کے ساتھ ہی اسٹوڈنٹ سیٹلائٹ INSPIREsat-1 کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (IIST) نے یونیورسٹی آف کولوراڈو کی لیبارٹری آف ایٹموسفیرک اینڈ اسپیس فزکس کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریٹر سیٹلائٹ INS-2TD بھارت اور بھوٹان کا مشترکہ مشن (India-Bhutan Joint Satellite) ہے ۔ اسرو نے مشن کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

      EOS-04 سیٹلائٹ سے کیا فائدہ ہوگا؟
      اسرو کے چیئرمین ایس سومناتھ(S Somnath)نے ٹویٹ کرکے یہ جانکاری دی۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، 'PSLV-C52 کا مشن کامیابی سے لانچ کیا گیا ہے۔' Radar Imaging Satellite (RISAT) کو ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ EOS-04 کہا جاتا ہے۔ جو سی بینڈ میں خلائی جہاز ریسورس سیٹلائٹ، کارٹو سیٹ اور RISAT-2B سیریز کے سیٹلائٹس سے حاصل کردہ ڈیٹا کو جمع کرے گا۔ اس سیٹلائٹ کی مدت دس سال بتائی جاتی ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ ہندوستان کا اسرو سیٹلائٹ لانچ کرنے کے معاملے میں بہت آگے ہے۔ اس نے 1975 سے اب تک 36 ممالک کے 129 ہندوستانی اور 342 غیر ملکی سیٹلائٹ لانچ کیے ہیں۔ حال ہی میں، یہ معلومات ایٹمی توانائی اور خلائی وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے راجیہ سبھا میں دی۔ اسرو نے گزشتہ تین سالوں میں غیر ملکی سیٹلائٹس کے لانچ سے 80 کروڑ روپے کمائے ہیں۔

       
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: