உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خلائی اسٹیشن کی تیاری میں مصروف اِسرو،2024میں ہوگا’اسپیس ڈاکنگ تجربہ‘، جانیے سب کچھ

    خلائی اسٹیشن کی تیاری میں مصروف اِسرو،2024میں ہوگا’اسپیس ڈاکنگ تجربہ‘،

    خلائی اسٹیشن کی تیاری میں مصروف اِسرو،2024میں ہوگا’اسپیس ڈاکنگ تجربہ‘،

    2023 کے لیے طے شدہ تینوں سائنسی مشن 2020 سے بار بار منسوخ کیے جا چکے ہیں، جس سے خلائی ایجنسی کی تمام سرگرمیاں سست پڑ گئیں ہیں۔ اس میں لانچوں کی تعداد بھی شامل ہے۔ سال 2020 اور 2021 میں صرف دو مشن شروع لانچ ہوئے تھے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے اپنے بڑے مشنوں کے لیے نئی ڈیڈ لائنیں طے کی ہیں، پہلا سولار مشن (شمسی مشن) اور تیسرا قمری مشن (چندرمشن) اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں منعقد ہونا ہے۔ خلائی ایجنسی کا تیسرا سائنسی مشن جو اگلے سال طے کیا جائے گا وہ ہے خلائی مشاہدہ، ایکسپو سیٹ، جو کائناتی ایکس ریز کا مطالعہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسرو کے گگن یان مشن کے لیے پہلا ابارٹ ڈیموسٹریشن اس سال کے آخر میں ہونا ہے۔

      انڈین ایکسپریس کے مطابق، خلائی محکمہ میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں ایک تحریری جواب میں کہا ہے کہ اسرو 2024 کی تیسری سہ ماہی میں 'اسپیس ڈاکنگ تجربہ' بھی کرے گا۔ خلائی ڈاکنگ دو الگ الگ لانچ کیے گئے خلائی جہازوں میں شامل ہونے کا عمل ہے۔ یہ بنیادی طور پر ماڈیولر خلائی اسٹیشن قائم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

      خود کا اسپیس اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ
      ہندوستانی خلائی ایجنسی نے 2019 میں اپنے پہلے بغیر پائلٹ کے خلائی جہاز کے مشن کو کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے کے بعد 'پانچ سے سات سال' میں اپنا خلائی اسٹیشن قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔ تب اسرو کے چیئرپرسن کے سیون نے کہا تھا کہ یہ خلائی پرواز کے پروگرام کی توسیع ہوگی، جس میں خلائی اسٹیشن کا وزن تقریباً 20 ٹن ہوگا اور اس میں 15 سے 20 دنوں کے لئے خلائی مسافروں کو رکھنے کی صلاحیت ہوگی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Paytm - Ola: آج پارلیمانی پینل سے پےٹی ایم کےوجے شیکھرشرما اور اولاکےرتیش اگروال کی ملاقات

      یہ بھی پڑھیں:
      President of India: آج ہندوستان کوملےگا15ویں صدر! کیسےہوگی پارلیمنٹ کےکمرہ نمبر63میں گنتی؟

      قابل ذکر ہے کہ 2023 کے لیے طے شدہ تینوں سائنسی مشن 2020 سے بار بار منسوخ کیے جا چکے ہیں، جس سے خلائی ایجنسی کی تمام سرگرمیاں سست پڑ گئیں ہیں۔ اس میں لانچوں کی تعداد بھی شامل ہے۔ سال 2020 اور 2021 میں صرف دو مشن شروع لانچ ہوئے تھے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: