اپنا ضلع منتخب کریں۔

    آج 24ویں اڑان بھرے گاPSLV، سمندروں کے مطالعہ کے لیے اوشین سیٹ سمیت نو سیٹلائٹس کیے جائیں گے لانچ

    آج 24ویں اڑان بھرے گاPSLV، سمندروں کے مطالعہ کے لیے اوشین سیٹ سمیت نو سیٹلائٹس کیے جائیں گے لانچ

    آج 24ویں اڑان بھرے گاPSLV، سمندروں کے مطالعہ کے لیے اوشین سیٹ سمیت نو سیٹلائٹس کیے جائیں گے لانچ

    ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ مشن اسرو کے سائنسدانوں کی جانب سے کیے گئے سب سے طویل مشنوں میں سے ایک ہوگا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      سمندروں کے سائنسی مطالعے اور طوفانوں پر نظر رکھنے کے لیے ہندوستان تیسری نسل کے اوشین-سیٹ، ہفتہ کو لانچ کرے گا۔ اسرو کا مشہور راکٹ پی ایس ایل وی-سی 54 اسے آٹھ دیگر نینو سیٹلائٹس کے ساتھ زمین کے مدار میں قائم کرے گا۔ اس مشن کے لیے الٹی گنتی شروع کردی گئی ہے۔

      راکٹ کی یہ 24ویں اڑان ہوگی
      سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے صبح 10.26 بجے لانچ کی تجویز ہے۔ یہ 44.4 میٹر اونچے راکٹ کا PSLV-XL ویرینٹ ہے، جس میں 321 ٹن لفٹ آف ماس یعنی خود راکٹ، بوسٹر، پروپیلنٹ، سیٹلائٹ اور آلات لے جانے کی صلاحیت ہے۔ یہ راکٹ کی 24ویں اڑان ہوگی۔

      سیٹلائٹ کو دو مداروں میں لے جائے گا راکٹ
      اسرو کے سائنسدان اسے اب تک کے طویل ترین مشنوں میں سے ایک تصور کر رہے ہیں۔ اس میں راکٹ سیٹلائٹ کو دو مداروں میں لے جائے گا۔ لانچ کے 20 منٹ کے بعد، اوشین سیٹ زمین سے 742 کلومیٹر کی بلندی پر چھوڑا جائے گا۔ اس کے بعد راکٹ کو زمین کی طرف لایا جائے گا اور باقی سیٹلائٹس کو 516 سے 528 کلومیٹر کی بلندی پر چھوڑا جائے گا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      کوورناوائرس:انٹراناسل 'فائیو آرمز' کووڈبوسٹرخوراک کومحدوداستعمال کی ملی اجازت

      یہ بھی پڑھیں:
      15سال پرانی گاڑیوں کو لیکر گڈکری سخت، کہا۔ حکومت گاڑیوں کو بھی کباڑ میں بدلیں گے

      سب سے طویل مشنوں میں سے ایک ہوگا ایک
      ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ مشن اسرو کے سائنسدانوں کی جانب سے کیے گئے سب سے طویل مشنوں میں سے ایک ہوگا۔ یہ پی ایس ایل وی-سی 54 لانچنگ جہاز مین استعمال ہونے والے ٹوآربٹ چینج تھرسٹرس (او سی ٹی) کا استعمال کر کے مدار کو بدلنے کے لیے راکٹ کو شامل کرے گا۔ ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ کو آربٹ-1 میں الگ کیا جائے گا جب کہ مسافر پے لوڈ کو آربٹ-2 میں الگ کر دیا جائے گا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: