Choose Municipal Ward
    CLICK HERE FOR DETAILED RESULTS
    ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

    اردو اساتذہ کی تقرری کے معاملے میں حکومت نے اہل اردو کو پھرکیا مایوس، جمعیۃ علما نے پھر شروع کی تحریک

    مدھیہ پردیش جمعیۃ نے صوبہ میں اردو اساتذہ کی تقرری کو لیکر پھر سے تحریک شروع کی ہے۔ جمیعۃ علما کے اراکین نے وزیر اعلی شیوراج سنگھ کو ایک بارپھر میمورنڈم پیش کرتے ہوئے اردو اسکولوں کی ضرورت کے مطابق اردو اساتذہ کو اسکولوں میں تقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    • Share this:
    اردو اساتذہ کی تقرری کے معاملے میں حکومت نے اہل اردو کو پھرکیا مایوس، جمعیۃ علما نے پھر شروع کی تحریک
    اردو اساتذہ کی تقرری کے معاملے میں حکومت نے اہل اردو کو پھر کیا مایوس

    بھوپال: مدھیہ پردیش میں اردو اساتدہ کی تقرری کا مطالبہ کوئی نیا نہیں ہے۔ 2003  سے لےکر اب تک مدھیہ پردیش میں  دگ وجے سنگھ، اوما بھارتی، بابو لال گور، شیوراج سنگھ اور کمل ناتھ اقتدار پر قابض ہوچکے ہیں، مگر مدھیہ پردیش میں اردو اساتذہ کی تقرری کا معاملہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ دگ وجے سنگھ کے عہد میں مدھیہ پردیش میں 2200  اردو اساتذہ کی تقرری کا اعلان ضرور کیا گیا تھا، مگر اس میں سے 670  اساتذہ کی تقرری ہی ہوسکی تھی کہ صوبہ میں اقتدارکی منتقلی ہوگئی۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش میں اردو اساتذہ کی تقرری کو لے کرجو گہن لگا تو وہ آج تک بدستور جاری ہے۔

    موجودہ میں اردو اساتذہ کی تقرری کی بات جب بھی بات کی جاتی ہے تو سیاسی پارٹیاں بجائے اس کے کہ اردو اساتذہ تقرری کے معاملےکو لے کرکوئی سنجیدہ کوشش کریں اور اس کا حل نکالیں، سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے میں ہی مصروف ہیں۔ یہ سچ ہےکہ بی جے پی کی 15 سالہ حکومت اور کانگریس کی 15 ماہ کی حکومت میں اردو کے نام پر صرف وعدے کئےگئے ہیں، تقرری عمل میں نہیں آسکی ہے۔ حالانکہ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اپنے منشور میں اردو اساتذہ کی تقرری کے معاملہ کو شامل کیا تھا، مگر 15 مہینے کی حکومت میں اس سمت قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔


    مدھیہ پردیش جمعیۃ نے صوبہ میں اردو اساتذہ کی تقرری کو لیکر پھر سے تحریک شروع کی ہے۔
    مدھیہ پردیش جمعیۃ نے صوبہ میں اردو اساتذہ کی تقرری کو لیکر پھر سے تحریک شروع کی ہے۔


    مدھیہ پردیش جمعیۃ علما نے صوبہ میں اردو اساتذہ کی تقرری کو لے کر پھر سے تحریک شروع کی ہے۔ جمیعۃ علما کے اراکین نے وزیر اعلی شیوراج سنگھ کو ایک بارپھر میمورنڈم پیش کرتے ہوئے اردو اسکولوں کی ضرورت کے مطابق اردو اساتذہ کو اسکولوں میں تقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعیۃ علما مدھیہ پردیش کے جنرل سکریٹری محمد کلیم ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ بی جے پی کی 15 سالہ حکومت اس کے بعد کمل ناتھ کی قیادت والی کانگریس کی 15 مہینے کی حکومت میں ہمیں صرف لالی پاپ ہی دیا گیا، عملی اقدامات اردو کو لیکر نہیں کئے گئے، جس کے سبب صوبہ میں اردو اسکولوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ہم نے سی ایم کو میمورنڈم  پیش کرکے سرکاری اسکولوں میں اردو اساتذۃ کی تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھی تو ہماری تحریک صرف بھوپال تک محدود ہے، اگر یہ مطالبات پورے نہیں ہوتے ہیں تو صوبائی سطح پر تحریک چلانے کے ساتھ ہم عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔

    مدھیہ پردیش بی جے پی کی ترجمان نہا بگا کہتی ہیں کہ مدھیہ پردیش میں سب سے زیادہ لمے عرصے تک کانگریس نے حکومت کی ہے۔ اگر آج اسکولوں میں اردو کے ٹیچرس نہیں ہیں تو اس کے لئے کانگریس ذمہ دار ہے۔
    مدھیہ پردیش بی جے پی کی ترجمان نہا بگا کہتی ہیں کہ مدھیہ پردیش میں سب سے زیادہ لمے عرصے تک کانگریس نے حکومت کی ہے۔ اگر آج اسکولوں میں اردو کے ٹیچرس نہیں ہیں تو اس کے لئے کانگریس ذمہ دار ہے۔


    وہیں جمعیۃ علما بھوپال کے صدرحاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ ابھی دنوں شیوراج سنگھ حکومت نے مختلف شعبوں میں اسامیوں کو پُرکرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس میں اردو کی اسامیاں بھی شامل ہیں۔ ہمیں حیرت ہےکہ صوبہ کی 42 ہزار اسامیوں سے اردو کے نام پر صرف 26 اساتذہ کی ہی تقرری کا اعلان کیاگیا ہے جو ناکافی ہے۔ حکومت نے سلسلہ شروع کیا ہے اس کا خیر مقدم ہے، مگر اور اضافہ کیا جا نا چاہئے۔ تاکہ مدھیہ پردیش میں اردو کو پُر وقار طریقے سے زندہ کیا جا سکے۔ اردو کے لمبے عرصے سے تحریک چلانے والے مفتی اسماعیل کہتے ہیں کہ معاملہ اردو اساتذہ کی 5تک محدود نہیں ہے بلکہ اردو اسکولوں کے طلبا کو وقت پر کتابیں بھی نہیں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ زیادتی حکومت اور محکموں کے ذریعہ جو جاری ہے، اس پر جب تک روک نہیں لگائی جائے گی، تب تک اردو کو اس کا حق نہیں مل سکے گا۔

    وہیں دوسری جانب مدھیہ پردیش بی جے پی کی ترجمان نہا بگا کہتی ہیں کہ مدھیہ پردیش میں سب سے زیادہ لمے عرصے تک کانگریس نے حکومت کی ہے۔ اگر آج اسکولوں میں اردو کے ٹیچرس نہیں ہیں تو اس کے لئے کانگریس ذمہ دار ہے، جس نے اردو کے نام پر ووٹ تو لیا، مگر ووٹ لینے کے بعد جیسا کی اس کی عادت ہی بھول جانے کی ویسا ہی اس نے کیا ہے۔ 2018 کے الیکشن میں بھی کانگریس نے اردو اساتذہ کی تقرری کی بات اپنے منشور میں شائع کی تھی، مگر 15 مہینے میں کمل ناتھ حکومت نے صرف اردو والوں کو ہی نہیں سماج کے سبھی طبقے کے لوگوں کو ٹھگنےکا کام کیا ہے۔ کانگریس کے کارنامے ہی اس کو ڈوبانے کے لئے کافی ہیں۔ شیوراج سنگھ سرکار سب کا ساتھ سب کا وکاس پر کام کرتی ہے اور ابھی پچھلے ہفتے جن نئی اسامیوں کا اعلان کیا گیا ہے، اس میں بھی اردو اساتدہ کی تقرری کو شامل کیا گیا ہے۔

    بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنا اور بار بار بولنا بی جے پی کی فطرت کا حصہ ہے۔
    بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنا اور بار بار بولنا بی جے پی کی فطرت کا حصہ ہے۔


    بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنا اور بار بار بولنا بی جے پی کی فطرت کا حصہ ہے۔ کانگریس نے اپنے منشور میں اردو اساتذہ کی تقرری کو نہ صرف شامل کیا تھا بلکہ اردو اساتذہ کی تقرری کو لے کر امتحان کا انعقاد بھی کیا جا چکا تھا۔ پہلے مرحلے میں 110 اردو اساتدہ کی تقرری کا اعلان کیا گیا تھا، اس سے پہلے کہ یہ مرحلہ پورا ہوتا ہماری حکومت چلی گئی۔ ہم اپنے وعدے پرپابند ہیں اور جب ہماری حکومت آئے گی اردو اساتذہ کی تقرری ترجیحات کی بنیاد پر کی جائے گی۔
    Published by: Nisar Ahmad
    First published: Oct 26, 2020 07:42 PM IST
    corona virus btn
    corona virus btn
    Loading