ہوم » نیوز » وطن نامہ

مِرگی کو شکست دینے کیلئے اسے سمجھنا لازمی ہے

حالیہ تحقیق کے مطابق، ہندوستان میں تقریباً 13 ملین لوگ مِرگی سے پریشان ہیں لیکن صرف 2.9 ملین لوگوں کو علاج کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

  • Share this:
مِرگی کو شکست دینے کیلئے اسے سمجھنا لازمی ہے
مِرگی کو شکست دینے کیلئے اسے سمجھنا لازمی ہے

حالیہ تحقیق کے مطابق، ہندوستان میں تقریباً 13 ملین لوگ مِرگی سے پریشان ہیں لیکن صرف 2.9 ملین لوگوں کو علاج کی سہولت حاصل ہوتی ہے2۔


مِرگی میں مبتلا 1 کروڑ لوگوں کی یا تو تشخیص نہیں ہوتی یا انہیں ادویات کی مدد سے علاج کی سہولت حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس مرض سے متعلق بیداری کی کمی اور غلط تصورات کی وجہ سے اس کے ساتھ تصورِ رسوائی بھی وابستہ ہے2۔


مِرگی ایک ایسی نیورولوجیکل کیفیت / خرابی ہے جس میں لوگوں کو بار بار مرگی (فِٹس) کا دورہ پڑتا ہے۔ مِرگی کا دورہ خلاف معمول برتاؤ، سنسنی اور کبھی کبھار بیداری کا احساس بھی ختم ہو جاتا ہے۔ ایسا اچانک پیدا ہونے والے تلاطم کے سبب ہوتا ہے، جو تکنیکی طور پر دماغ کی الیکٹریکل سرگرمی پر ایک بوجھ ہوتا ہے1۔


مِرگی کی کیا وجوہات ہیں؟


مِرگی کئی وجوہات کی بناء پر ہو سکتی ہے۔ ان میں دماغ کے ٹیومرز، سر میں لگنے والی چوٹ، انفیکشن، اسٹروک یا جینیاتی کیفیات شامل ہیں۔ تاہم، بالغوں اور بچوں دونوں میں تقریباً 70 فیصد مِرگی کے معاملات میں، کسی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکتا11۔ ان میں سے کچھ اہم وجوہات یہ ہیں: دوائیں چھوٹ جانا، دباؤ، بے چینی یا جوش، ہارمونل تبدیلیاں، چند مخصوص کھانے، شراب، فوٹو سینسیٹیویٹی اور موسیقی1۔


مِرگی میں درپیش بڑے چیلنجز:


جہاں تک مِرگی کا تعلق ہے، تشخیص ایک مسئلہ ہے۔ یہ وہ حصہ ہے جہاں بہت سے غلط تصورات پیدا ہو جاتے ہیں، جن میں سماجی و ثقافتی مسائل یا اس کیفیت سے متعلق ناپسندیدگی/مفروضے شامل ہیں۔ کبھی کبھار، اس کیفیت کی تشخیص درست نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں غلط یا موخر علاج ہوتا ہے اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔


مِرگی ایک ایسی کیفیت ہے جسے اچھی طرح سمجھا نہیں جاتا ہے اور اکثر، وسیع پیمانے پر اس کی تشخیص کے باوجود، اس کا اچھی طرح علاج نہیں ہو پاتا۔ مِرگی میں مبتلا لوگوں کو صحتی اور سماجی امتیاز کا تجربہ بھی ہوتا ہے، جیسے زندگی کے معیار سے متعلق خراب صحت7۔ خاطر خواہ حد تک اچھی طرح کنٹرول میں رہنے والے مِرگی کے مریض اکثر اپنی مِرگی سے متعلق خرابی کے بارے میں بات نہیں کرتے ہیں یا وہ اپنے دوستوں اور ساتھ کام کرنے والوں کو اس کے بارے میں نہیں بتاتے ہیں کیونکہ انہیں اس کے ضمن میں پیش آنے والے نتائج یا مِرگی سے ہونے والی رسوائی کا خوف ہوتا ہے۔ ایسا نہ ہونے دیں۔ اپنے دوستوں اور اہل خانہ سے بات کریں، اور سماجی کو چاہئے کہ وہ مِرگی میں مبتلا مریضوں کو ابنارمل سمجھنا بند کر دے۔


بھارت میں، یہ ایک مفروضہ ہے کہ یہ شیطانوں اور بدروحوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ اس کا گزشتہ زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک سائنٹفک نیورولوجیکل مسئلہ ہے جسے درست علاج کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ مِرگی کی ایپی ڈیمیولوجک تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ مِرگی کا مجموعی واقعہ خواتین کے مقابلے مردوں میں تھوڑا زیادہ ہے2۔


اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو یا آپ کے کسی عزیز کو مِرگی ہے، تو اپنے ڈاکٹر سے یہ بات کرنا اہم ہے کہ کیا کچھ ہوتا رہا ہے۔


اس بات کا ریکارڈ رکھیں کہ خلاف معمول مِرگی کے دورے کتنی بار پڑتے ہیں، یہ دن کے کس وقت میں ہوتا ہے اور کیا شکل اختیار کرتا ہے۔ اس سے آپ کے ڈاکٹر کو یہ تعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ آیا جو بات بتا رہے ہیں، وہ مِرگی کی علامت ہے یا نہیں۔ مِرگی کی تشخیص میں کسی ڈاکٹر کا پہلا ٹول یہ ہے کہ وہ آپ اس بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کرے کہ مِرگی کس قسم کی تھی اور اس کے شروع ہونے سے عین پہلے کیا ہوا۔ اگر آپ کی زندگی میں موجود کسی شخص کو مِرگی لاحق ہے، تو اس کا تعاون کرنا اور اسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔


مِرگی کے تقریباً 30 تا 40 فیصد معاملات جینیاتی پری ڈسپوزیشن کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ موروثی مِرگی کے حامل لوگوں کے فرسٹ ڈگری رشتے داروں کو مِرگی کا خطرہ دو سے چار گنا زیادہ ہوتا ہے5۔ مِرگی/فِٹس کا علاج رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر کے ذریعے کروانا چاہئے تاکہ مریض کو بروقت علاج کی پیشکش کی جا سکے۔ اگر آپ کو کسی ایسے نیورولوجسٹ تک رسائی حاصل ہے جو صحیح علاج کے پروٹوکول میں مدد کر سکے، تو اس سے رابطہ کریں۔


کیا آپ ایسے والدین کو کوئی خاص مشورہ دینا چاہیں گے جن کے بچوں کو مِرگی کا مرض لاحق ہے؟ اور اس کیفیت میں نگہداشت کنندہ کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟


نگہداشت کنندگان کو بچے پر نظر رکھنی چاہئے اور بچے کو زیادہ دیر تک مکمل طور پر تنہا / بغیر نگرانی کے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ معلوم کریں کہ ٹریگر کیوں ہوتا ہے اور جہاں تک ممکن ہے ان سے گریز کریں۔ یہ یقینی بنائیں کہ بچے کے اساتذہ/سرپرست بچے کو لاحق طبی مسئلے سے آگاہ رہیں اور یہ یقینی بنائیں کہ انہیں ان کے پاس ہنگامی حالت میں رابطہ کرنے والے روابط موجود ہوں۔


یہ یقینی بنائیں کہ ادویات وقت پر دئے جائیں اور ضروری فالو اپ وزٹس / جانچ کرائی جائے۔ ہنگامی صورتحال سے پہلے پیدا ہونے والی کیفیت سے آگاہ رہیں اور اس کی رو نما ہوتے ہی جلد از جلد ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔ جب بچے کو مِرگی آئے تو اسے منہ کے ذریعے کچھ نہ دیں (پانی/ٹیبلیٹ/سیرپ) اور اسے فوری طور پر اسپتال لے جائیں۔


کیا خواتین پر اس کا مختلف اثر پڑتا ہے؟ اور کیا اس کا طویل مدتی اثر پڑتا ہے ۔ جیسے ان کی مجموعی صحت یا ان کے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت پر؟


مِرگی کے مرض میں مبتلا لڑکی/خواتین کے حوالے سے سماج میں جو منفی رجحانات ہیں، انہیں ان کے اہل خانہ کے ساتھ مل کر دور کرنا چاہئے۔ اگر ان کا علاج کیا جائے، اور احتیاط کی جائے، تو یہ ممکن ہے کہ گھر پر ایک اچھے سپورٹ سسٹم کے ساتھ تقریباً عام زندگی بسر کر سکیں۔ مِرگی کے مرض میں مبتلا خواتین بھی ویسے ہی حاملہ ہو سکتی ہے جیسے وہ خواتین جنہیں مِرگی کا مرض لاحق نہیں ہے۔ کچھ خواتین کیلئے، ان کی مِرگی غیر متاثر رہتی ہے جبکہ کچھ کی حالت میں بہتری دیکھی گئی ہے۔


تاہم، چونکہ حمل میں جسمانی اور جذباتی دباؤ ہوتا ہے، ساتھ ہی اضافی تھکن بھی ہوتی ہے، اسلئے مرِگی کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ شدید ہو جاتی ہے۔ کسی بھی خطرے کو کم کرنے کیلئے، حاملہ ہونے سے پہلے یا اگر آپ حاملہ ہونے کا منصوبہ بنا رہی ہیں، تو اپنی ادویات کے بارے میں اپنے نیورولوجسٹ سے بات کریں۔ عین ممکن ہے کہ وہ آپ کو متبادل علاج پر ڈال دیں۔ حمل کے دوران اپنی ادویات تبدیل کرنے سے بہتر ہے کہ آپ اس سے پہلی اپنی ادویات میں تبدیلی کر لیں۔


اگر آپ کو اینٹی ایپی لیپسی ڈرگ کا علاج کراتے وقت حمل ٹھہرتا ہے، تو اسے لینا جاری رکھیں اور اپنے علاج کے بارے میں اپنے جنرل پریکٹیشنر (GP) یا اسپیشلسٹ سے فوری طور پر بات کریں۔ اپنا علاج تبدیل نہ کریں یا اسپیشلسٹ سے مشورہ کئے بغیر اپنی ادویات لینا بند کر دیں، خاص طور پر حمل کے دوران۔ ایسا اسلئے کیونکہ حمل کے دوران شدید مِرگی کا دورہ پڑنے سے آپ کے بچے کو نقںان پہنچ سکتا ہے یا اسے چوٹ لگ سکتی ہے9۔


کیا مِرگی میں مبتلا لوگوں کیلئے عام زندگی بسر کرنا ممکن ہے؟ ان کے معیار زندگی پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے؟


مِرگی میں مبتلا بیشتر لوگ ہیلتھ کیئر پریکٹیشنرز کی جانب سے صحیح علاج اور رہنمائی کی مدد سے صحت مند اور عام زندگی بسر کر سکتے ہیں8,10۔


Abbott India کی ’مِرگی سے آزادی کی تحریک میں شامل ہوں ۔ اسے شکست دینے کیلئے اس کا علاج کریں‘ مہم کا مقصد ان علامات کے شکار لوگوں کو فوری طور پر اپنے نیورولوجسٹ سے رابطہ کرنے کی ترغیب دینا ہے۔


مزید معلومات کیلئے، یہاں کلک کریں۔


یہ ایک شراکتی پوسٹ ہے۔


Disclaimer:
** This is in partnership with Abbott India, written by Prof. (Dr.) Muhamad Kunju, Prof. & Ex. Head of Paediatric Neurology at Medical College., Sr. Neurologist at KIMS, Trivandrum.


Information appearing in this material is for general awareness only and does not constitute any medical advice. Please consult your doctor for any questions or concerns you may have regarding your condition.


References:
• 1 National Center for Chronic Disease Prevention and Health Promotion, Division of Population Health. https://www.cdc.gov/epilepsy/about/faq.htm
• 2Santhosh NS, Sinha S, Satishchandra P. Epilepsy: Indian perspective. Ann Indian Acad Neurol. 2014;17(Suppl 1):S3-S11.
• 4.
• 5https://www.uchicagomedicine.org/conditions-services/neurology-neurosurgery/epilepsy-seizures/causes
• 6
• 7 Durugkar S, Gujjarlamudi HB, Sewliker N. Quality of life in epileptic patients in doctor's perspective. Int J Nutr Pharmacol Neurol Dis 2014;4:53-7
• 8 Shetty PH, Naik RK, Saroja A, Punith K. Quality of life in patients with epilepsy in India. J Neurosci Rural Pract. 2011;2(1):33-38.
• 9 Jacqueline French, Cynthia Harden, Page Pennell, Emilia Bagiella, Evie Andreopoulos, Connie Lau, Stephanie Cornely, Sarah Barnard, and Anne Davis; Neurology April 5, 2016 vol. 86 no. 16 Supplement I5.001
• 10 https://www.nebraskamed.com/neurological-care/epilepsy/with-right-treatment-most-epilepsy-patients-can-live-normal-lives
• 11 https://www.aans.org/en/Patients/Neurosurgical-Conditions-and-Treatments/Epilepsy

Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 14, 2020 03:01 PM IST