ہوم » نیوز » وطن نامہ

جموں و کشمیر تنظیم نو بل2019:لوک سبھا میں بحث جاری ۔ امت شاہ اورمنیش تیواری کے درمیان نوک جھونک

جموں و کشمیر تنظیم نو بل2019 منظوری کے لیے آج لوک سبھا میں پیش کردیاہے۔مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے اب بل کو ایوان میں پیش کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کو جموں کشمیر پر قانون بنانے کا حق حاصل ہے اور آئین میں جموں کشمیر کے حدود واضح کردیے گیے ہیں۔

  • Share this:
جموں و کشمیر تنظیم نو بل2019:لوک سبھا میں بحث جاری ۔ امت شاہ اورمنیش تیواری کے درمیان نوک جھونک
امت شاہ اورمنیش تیواری میں نوک جھونک۔(تصویر:نیوز18ڈاٹ کام)۔

جموں و کشمیر تنظیم نو بل2019 منظوری کے لیے آج لوک سبھا میں پیش کردیاہے۔مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے اب بل کو ایوان میں پیش کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کو جموں کشمیر پر قانون بنانے کا حق حاصل ہے اور آئین میں جموں کشمیر کے حدود واضح کردیے گیے ہیں۔ مرکزی وزیرداخلہ نے بتایا کہ جموں کشمیر میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ اکسائی چن بھی جموں کشمیر میں شامل ہے۔ امت شاہ نے ایوان کوبتایا کہ جموں کشمیر ہمیشہ ہندوستان کے ساتھ رہے گا۔ انہوں کہا کہ ’’میں(امت شاہ) جموں کشمیر کے لیے اپنی جان قربان کرسکتا ہوں‘‘


اسی دوران لوک سبھا میں امت شاہ نےسوال کیا کشمیرمعاملہ پرکانگریس کا کیاموقف ہے؟۔ وہیں کانگریس کےادھیررنجن چودھری نے کہا کہ ضوابط کو توڑکرریاست کو مرکز کے زیر انتظام کیا۔ جس کے بعد کانگریس کےادھیررنجن چودھری اورامت شاہ میں نوک جھونک ہوگئی۔بعد میں کانگریس کے سینئر لیڈرمنیش تیواری نے بھی اپنا موقف ایوان میں رکھا۔انہوں نے کہا کہ آج جموں کشمیرہندوستان کااٹوٹ حصہ ہے۔ منیش تیواری پنڈت نہروکی وجہ سےکشمیرہندوستان کااٹوٹ بناہے۔کانگریس رکن نے کہا کہ انضمام کے وقت جموں وکشمیر سے کچھ وعدےکیے گیے تھے۔جس کے تحت دفعہ 370 کوآئین میں شامل کیاگیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی تنظیم نوسے پہلےریاست سےبات چیت تک نہیں کی گئی۔اس موقع پر امت شاہ اور منیش تیواری کے درمیان لفظی جھڑپ ہوگئی۔


اس کے علاوہ ایوان میں جموں کشمیر ریزرویشن ترمیمی بل بھی آج لوک سبھا میں پیش کردیاگیاہے۔اس بل کے ذریعے جموں کشمیر میں اعلیٰ ذاتوں کے غریبوں کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یقین دلایا ہے کہ وہ ایوان میں بلوں پر تفصیلی مباحث کے ساتھ ساتھ ہرسوال کا اطمینان بخش جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔


صوتی ووٹ کے ذریعے کل جموں و کشمیر تنظیم نوبل کو راجیہ سبھا میں منظور کیا گیا تھا۔راجیہ سبھا میں آرٹیکل 370 اور دفعہ35 اے کو منسوخ کرتے ہوئے ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا گیاہے۔ جموں کشمیر کو مرکزکے زیرانتظام علاقہ بنایا جارہا ہے۔تاہم ریاست میں اسمبلی برقرار رہے گی جب کہ لداخ کوبنااسمبلی کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کی تجویزہے۔

وہیں دوسری جانب سے جموں وکمشیر میں دوسرے دن بھی کرفیونافذہے۔ 5 اگست سے کی نصف شپ سے کرفیوکا نفاذ کیاگیاتھا۔ جموں وکشمیر کے ڈی جی پی دل باغ سنگھ نے بتایاہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں وکشمیرمیں کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعات پیش نہیں آئے ہیں اورعوام انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں۔
First published: Aug 06, 2019 12:48 PM IST