உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جہانگیر پوری تشدد معاملے میں 8 ملزمین کی ضمانت خارج، عدالت نے دہلی پولیس کو لگائی پھٹکار

    جہانگیر پوری تشدد معاملے میں 8 ملزمین کی ضمانت خارج

    جہانگیر پوری تشدد معاملے میں 8 ملزمین کی ضمانت خارج

    Court reject bail plea of 8 accused in Jahangirpuri conflict: دہلی کی مقامی عدالت نے جہانگیر پوری معاملے میں 8 ملزمین کی ضمانت عرضی کو خارج کردیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ یہ ملزم نشان زد مقامی مجرم ہیں۔ انہیں چھوڑنے سے گواہوں کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں 16 اپریل کو ہنومان جینتی کے موقع پر نکالے گئے ایک جلوس کے دوران ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے معاملے میں مقامی عدالت نے اتوار کو 8 ملزمین کو ضمانت دینے سے انکار کردیا ہے۔ ساتھ ہی اس معاملے میں پولیس کے ذریعہ کوتاہی برتے جانے پر انہیں پھٹکار لگائی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ آٹھوں ملزم علاقے کے مشہور مجرم ہیں اور اگر انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے تو یہ لوگ گواہوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ جج نے اس معاملے میں پولیس کو لتاڑ لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس غیر قانونی ریلی کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ عدالت نے دہلی پولیس کمشنر سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی جانچ کریں اور قصور وار پولیس افسران کی جوابدہی طے کریں۔

      قصور وار پولیس افسران پر جوابدہی طے کرنے کا حکم

      این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق، گزشتہ ماہ رام نومی کے دن دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں غیر قانونی جلوس نکالا گیا تھا، جس پر پتھر بازی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس حادثہ میں دونوں فریق کے درمیان پُرتشدد جھڑپ ہوئی، جس میں 8 پولیس والے ایک عام شہری زخمی ہوگئے تھے۔ اس معاملے میں 20 لوگوں کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے۔ اس حادثہ کے بعد اس پر سیاست بھی شروع ہوگئی تھی۔ سبھی بڑی جماعتوں نے اس پر اپنے ردعمل ظاہر کئے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      روس-یوکرین جنگ: اسکول کی عمارت پر گرا بم، حملے میں 60 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ

      حالانکہ جانچ میں پایا گیا کہ رام نومی کے دن جو جلوس نکالی گئی تھی، اس کے لئے پولیس سے اجازت نہیں لی گئی تھی اور جب دو گروپوں کے درمیان کہاسنی ہو رہی تھی، تب پولیس بھی وہاں موجود تھی، اس کے باوجود پولیس امن وامان کی صورتحال بنائے رکھنے میں ناکام رہی۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے قصور وار پولیس افسران پر جوابدہی طے کرنے کے لئے کہا ہے۔

      پولیس غیر قانونی جلوس میں خود شامل ہوئے تھے

      عدالت نے کہا کہ غیر قانونی جلوس کو روکنے اور بھیڑ کو بھگانے کے بجائے پولیس ان کے ساتھ تھی۔ جج نے کہا کہ ایف آئی آر میں بھی اس بات کو کہا گیا ہے کہ انسپکٹر راجیو رنجن کی قیادت میں دیگر پولیس افسر بھی غیر قانونی جلوس میں شامل ہوئے تھے۔ جج نے کہا کہ پہلی نظر میں یہی لگتا ہے کہ مقامی پولیس غیر قانونی جلوس کو روکنے میں پوری طرح ناکام رہی۔ حالانکہ دہلی پولیس کے سینئر افسر دیپیندر پاٹھک نے کہا کہ پولیس کا کام امن وامان کو قائم رکھنے کا ہے، اس لئے پولیس وہاں موجود تھی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: