உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jahangirpuri Demolition Drive: جہانگیرپوری ایکشن پر اسد الدین اویسی کا شدید ردعمل، کہی یہ بات

    Youtube Video

    Delhi Jahangirpuri Violence : اے آئی ایم آئی ایم چیف اسد الدین اویسی نے دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں غیر قانونی تجاوزات پرایم سی ڈی کے ذریعہ بلڈوزر کارروائی کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : اے آئی ایم آئی ایم چیف اسد الدین اویسی نے دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں غیر قانونی تجاوزات پرایم سی ڈی کے ذریعہ بلڈوزر کارروائی کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اسدالدین اویسی نے ایک ٹویٹ میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال سمیت بی جے پی حکومت پر سخت نشانہ لگایا ہے ۔ اویسی نے اس فیصلے کو بی جے پی کا غریبوں کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی اس فیصلے پر دہلی کے سی ایم اروند کیجریوال کے کردار کو مشکوک قرار دیا ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : جہانگیرپوری میں بلڈوزر پر لگی روک، MCD کو سپریم کورٹ کا حکم، جوں کی توں صورتحال بنائے رکھیں


      اسد الدین اویسی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ بی جے پی یوپی اور ایم پی کی طرح دہلی میں بھی غیرقانونی تجاوزات کے نام پر مکانات کو تباہ کرنے جارہی ہے۔ کوئی نوٹس نہیں، عدالت جانے کا موقع نہیں، بس غریب مسلمانوں کو زندہ رہنے کی سزا دو ۔ انھوں نے کہا کہ اروند کیجریوال کو اپنے مشکوک کردار کو واضح کرنا چاہئے۔



       

      یہ بھی پڑھئے : عرفی جاوید سے روزہ کو لے کر کیا گیا سوال تو اداکارہ نے دیا ایسا جواب، جان کر رہ جائیں گے حیران!


      اویسی نے لکھا ہے کہ کہ کیا ان کی حکومت پی ڈبلیو ڈی کی اس انہدامی مہم کا حصہ ہے ۔ کیا جہانگیرپوری کے لوگوں نے انہیں اس طرح کی غداری اور بزدلی کے لیے ووٹ دیا تھا ۔ پولیس ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے کا بار بار بہانہ یہاں کام نہیں آئے گا۔ اپنے ٹویٹ کے آخر میں اسد الدین اویسی نے لکھا مایوس کن صورتحال۔

      غور طلب ہے کہ کہ ہفتہ کو شمال مغربی دہلی کے جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی جلوس کے دوران دو کمیونیٹیوں کے درمیان پتھراؤ، آتش زنی اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے تھے ۔ اس تشدد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے علاوہ ایک مقامی شہری زخمی ہوگیا تھا ۔ اس کے بعد بی جے پی نے غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس کے بعد ایم سی ڈی نے 20 اور 21 اپریل کو تجاوزات ہٹاو مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: