உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jahangirpuri Violence: امت شاہ کا دہلی پولیس کو حکم، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرکے مثال پیش کریں

    امت شاہ کا دہلی پولیس کو حکم، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

    امت شاہ کا دہلی پولیس کو حکم، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

    Jahangirpuri Violence: ایک سینئر افسر نے بتایا کہ چوبیس گھنٹے میں 500  سے زیادہ پولیس اہلکار اور اضافی اہلکاروں کی چھ کمپنیاں تعینات ہیں۔ افسران نے بتایا کہ کل 80 آنسو گیس کی ٹیم اور پانی کی بوچھار کرنے والی ٹیموں کو تعینات کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے جہانگیر پوری میں ہوئے تشدد پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کے روز سخت رخ اپناتے ہوئے دہلی پولیس کے افسران کو قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور مثال پیش کرنے کا حکم دیا تاکہ ایسے حادثات دوبارہ نہ ہوں۔ وہیں دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانا نے پیر کے روز بتایا کہ تشدد معاملے میں اب تک دونوں طبقوں کے 23 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی جانچ جرائم یونٹ کو سونپی گئی ہے اور اس کے لئے 14 ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ اس درمیان، شمال مشرقی دہلی کے تشدد متاثرہ جہانگیر پوری علاقے میں بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کے جوانوں کو تعینیات کیا گیا ہے۔ ان میں فساد مخالف ٹیم کے جوان بھی شامل ہیں۔ افسران نے پیر کے روز یہ جانکاری دی۔

      ایک سینئر افسر نے بتایا کہ چوبیس گھنٹے علاقے میں 500 سے زیادہ پولیس اہلکاروں اور اضافی اہلکاروں کی چھ کمپنیاں تعنیات ہیں۔ افسران نے بتایا کہ کل 80 آنسو گیس کی ٹیم اور پانی کی بوچھار کرنے والی ٹیموں کو تعینات کیا گیا ہے۔ حساس علاقوں میں چھتوں کی نگرانی کرنے کے لئے ڈرون کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی ناگہانی حادثہ سے بچنے کے لئے سبھی سینئر افسران کو جائے حادثہ پر موجود رہنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔

      دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانا نے ایک نیوز چینل سے بات چیت میں کہا، ’ہم نے نہ صرف جہانگیر پوری میں بلکہ دیگر علاقوں میں بھی مناسب فورس تعینات کیا ہے۔ ہم نگرانی کے لئے ٹکنالوجی کا استعمال کریں گے اور حالات کی نگرانی یہ یقینی بنانے کے لئے کر رہے ہیں کہ مستقبل میں کوئی ناگہانی حادثہ نہ ہو‘۔ علاقے میں تعیناتی کے بارے میں پوچھے جانے پر راکیش استھانا نے کہا کہ جب تک صورتحال معمول پر نہیں آجاتی، جہانگیر پور سمیت حساس علاقوں میں یہ قواعد جاری رہے گی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      اس دوران سڑک پر کچھ مقامی لوگ ہی کبھی کبھی دکھائی دے رہے ہیں۔ پورے علاقے میں بیریکیٹ لگائے گئے ہیں اور پولیس لوگوں سے دیگر شاہراہوں سے جانے کے لئے کہہ رہی ہے۔ پولیس نے بیریکیٹ کے قریب ہی ٹینٹ بھی لگائے ہیں۔ ایک مسجد سے 200 میٹر کی دوری پر واقع جی بلاک میں کچھ دوکانیں کھلی دکھائی دیں۔

      واضح رہے کہ ہفتہ کے روز جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی پر نکالی گئی شوبھا یاترا کے دوران دو طبقوں کے لوگوں کے درمیان تشدد ہوا تھا، جس میں ایک مقامی شخص اور آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: