உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجستھان میں وزیر اعلیٰ عہدے سے متعلق گھمسان، سابق وزیر کے گھر پر گہلوت گروپ کا مجمع، سچن پائلٹ مشکل میں

    راجستھان میں وزیر اعلیٰ عہدے کو لے کر کانگریس میں گھمسان مچ گیا ہے۔

    راجستھان میں وزیر اعلیٰ عہدے کو لے کر کانگریس میں گھمسان مچ گیا ہے۔

    راجستھان میں کانگریس کی لڑائی کمروں سے نکل کر سڑک پر آگئی ہے۔ حیران کرنے والے سیاسی ماحول میں ایک طرف، آبزرور ملیکا ارجن کھڑگے اور اجے ماکن اراکین اسمبلی کا انتظار کر رہے ہیں، تو وہیں دوسری طرف وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت گروپ کے تقریباً 60 اراکین اسمبلی، سابق وزیر شانتی دھاری والی کے گھر جمع ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jaipur, India
    • Share this:
      جے پور: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر عہدے کے الیکشن کے درمیان راجستھان میں وزیر اعلیٰ عہدے سے متعلق سیاسی گھمسان مچ گیا ہے۔ یہاں کانگریس کی لڑائی کمروں سے نکل کر سڑک پر آگئی ہے۔ حیران کرنے والے سیاسی ماحول میں ایک طرف، آبزرور ملیکا ارجن کھڑگے اور اجے ماکن اراکین اسمبلی کا انتظار کر رہے ہیں، تو وہیں دوسری طرف وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت گروپ کے تقریباً 60 اراکین اسمبلی، سابق وزیر شانتی دھاری والی کے گھر جمع ہیں۔ ان میں سے ڈیڑھ درجن سے زیادہ وزرا ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ان لوگوں کو سچن پائلٹ کو وزیر اعلیٰ عہدہ دینا منظور نہیں ہے۔

      ذرائع کا کہنا ہے کہ یہاں یہ حکمت عملی تیارکی جا رہی ہے کہ وہ پارٹی آبزروروں کے سامنے اعلیٰ کمان سے طے نام پر رضامند نہیں ہوں گے۔ بلکہ جو 102 اراکین اسمبلی بحران کے وقت حکومت کے ساتھ کھڑے تھے، ان میں سے کسی کی بھی پیروی کریں گے۔ تاہم انہیں سچن پائلٹ کا نام نہیں سننا ہے۔ واضح رہے کہ جس وقت سچن پائلٹ نے بغاوت کی تھی، اس وقت 102 اراکین اسمبلی نے حکومت کا ساتھ دیا تھا۔

      گرسکتی ہے حکومت: لوڈھا

      اس سے پہلے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے مشیر اور آزاد رکن اسمبلی سنیم لوڈھا نے بھی بڑا بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اشوک گہلوت کو ہی وزیر اعلیٰ رکھنا چاہئے۔ کیونکہ اگر انہیں ہٹایا تو حکومت گرسکتی ہے۔ ایک اور گہلوت حامی وزیر اور راشٹریہ لوک دل کے رکن اسمبلی سبھاش گرو نے سچن پائلٹ پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گہلوت حکومت کو گرانے کی سازش کرنے والوں کو وزیر اعلیٰ بنایا تو حکومت گر جائے گی۔

       

      اشوک گہلوت نے کہا ہمارے لئے عہدہ اہم نہیں

      اس سے قبل راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اتوار کے روز کہا کہ وہ 40 سالوں تک آئینی عہدوں پر رہے اور چاہتے ہیں کہ اب نئی نسل کو موقع ملے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ اسمبلی الیکشن ایسے شخص کی قیادت میں لڑا جانا چاہئے، جس سے راجستھان میں کانگریس حکومت پھر سے اقتدار میں آسکے۔ جیسلمیر میں صحافیوں سے بات چیت میں اشوک گہلوت نے کہا، ’میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ میرے لئے کوئی عہدہ اہم نہیں ہے۔ میں 50 سال سے سیاست کر رہاہوں اور 40 سال سے کسی نہ کسی آئینی عہدے پر ہوں۔ اس سے زیادہ شخص کو کیا مل سکتا ہے یا کیا چاہئے۔ میرے دماغ میں بات یہ ہے کہ نئی نسل کو موقع ملے اور سب مل کر ملک کو قیادت فراہم کریں‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: