உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجستھان: وزیراعلیٰ عہدہ چھوڑنےکی قیاس آرائیوں کے درمیان اشوک گہلوت کا بڑا بیان- اب نئی نسل کو ملے موقع

    راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت لڑیں گے کانگریس صدر عہدے کا الیکشن

    راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت لڑیں گے کانگریس صدر عہدے کا الیکشن

    راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اتوار کو کہا کہ وہ 40 سالوں تک آئینی عہدوں پر رہے اور چاہتے ہیں کہ اب نئی نسل کو موقع ملے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ اسمبلی الیکشن ایسے شخص کی قیادت میں لڑا جانا چاہئے، جس سے راجستھان میں کانگریس حکومت پھر سے اقتدار میں آسکے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jaipur, India
    • Share this:
      جے پور: راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اتوار کو کہا کہ وہ 40 سالوں تک آئینی عہدوں پر رہے اور چاہتے ہیں کہ اب نئی نسل کو موقع ملے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ اسمبلی الیکشن ایسے شخص کی قیادت میں لڑا جانا چاہئے، جس سے راجستھان میں کانگریس حکومت پھر سے اقتدار میں آسکے۔

      جیسلمیر میں صحافیوں سے بات چیت میں اشوک گہلوت نے کہا، ’میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ میرے لئے کوئی عہدہ اہم نہیں ہے۔ میں 50 سال سے سیاست کر رہاہوں اور 40 سال سے کسی نہ کسی آئینی عہدے پر ہوں۔ اس سے زیادہ شخص کو کیا مل سکتا ہے یا کیا چاہئے۔ میرے دماغ میں بات یہ ہے کہ نئی نسل کو موقع ملے اور سب مل کر ملک کو قیادت فراہم کریں‘۔

      واضح رہے کہ اشوک گہلوت اتوار کو جیسلمیر میں تنوٹ ماتا کے مندر میں پوجا کرنے کے لئے پہنچے تھے۔ اشوک گہلوت نے کہا کہ میڈیا کے ذریعہ پھیلایا گیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ نہیں چھوڑنا چاہتے ہیں، جبکہ یہ ان کے دماغ میں کبھی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لئے کوئی عہدہ اہم نہیں ہے۔

      اشوک گہلوت نے مزید کہا، ’میں نے اگست میں ہی اعلیٰ کمان سے کہا ہے کہ آئندہ الیکشن ایسے شخص کی قیادت میں لڑا جانا چاہئے، جس سے ریاست میں پھر سے الیکشن جیتنے کے امکانات بڑھیں۔ چاہے وہ میں ہوں یا میرے علاوہ کوئی اور۔ اسے منتخب کریں اور حکومت بنائیں‘۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان واحد بڑا صوبہ بچا ہے، جہاں پر کانگریس اقتدار میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر راجستھان میں کانگریس جیت جاتی ہے، تو پارٹی پھر سے زندہ ہوگی اور پھر پارٹی دیگر ریاستوں میں بھی جیت درج کرے گی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: