உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    India Indonesia:جئے شنکر اور مارسوڈی نے کی ہند-انڈونیشیا سفارتی تعلقات کی جائزہ میٹنگ

    ہندوستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے میٹنگ میں لیے اہم فیصلے۔

    ہندوستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے میٹنگ میں لیے اہم فیصلے۔

    گزشتہ ہند۔انڈونیشیا جے سی ایم کی مشترکہ صدارت جئے شنکر اور مارسوڈی نے 13 دسمبر 2019 کو نئی دہلی میں کی تھی۔ اس میٹنگ میں بھی دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔ یہ ظاہر ہے کہ ہندوستان اور انڈونیشیا گہرے سمندری پڑوسی ہیں۔

    • Share this:
      India Indonesia:نئی دہلی: ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور انڈونیشیا کے وزیر خارجہ ریٹنو مارسوڈی نے جمعہ کو ساتویں ہندوستان-انڈونیشیا مشترکہ کمیشن کی میٹنگ کا اختتام دفاع، سیکورٹی سمیت کئی اہم شعبوں پر دو طرفہ تعاون پر کیا۔ جے شنکر نے ٹویٹ کرکے اس اہم میٹنگ کے بارے میں جانکاری دی۔ اقتصادیات، تجارت، سائنس، ٹیکنالوجی اور خلاء کے ساتھ عوام سے عوام کے تعلقات کو اہمیت کا حامل مانا۔

      مارسوڈی نے جمعرات کو ہندوستان اور آسیان ممالک کی وزارت خارجہ کی میٹنگ میں شرکت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ملاقات ہند بحرالکاہل خطے میں امن اور اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے۔ مرسوڈی نے دہلی کے ڈائیلاگ الیون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہند-بحرالکاہل خطے سے باہر تمام خطوں میں اختلافات اور دوریوں کو کم کرکے ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

      مرسوڈی نے کووڈ کی ویکسینیشن اور افادیت کی تعریف کی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آج بھی کچھ لوگ اسے لینے سے ڈرتے ہیں۔ سمندری تعاون پر، مارسوڈی نے کہا کہ ہندوستان اور آسیان کو دفاع، سلامتی، اقتصادی، تجارت، سائنس، ٹیکنالوجی، خلائی اور عوام سے عوام کے تعلقات پر متحد ہونا چاہیے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan in Grey List:ابھی FATFکی’گرے لسٹ‘ میں ہی رہے گا پاکستان

      یہ بھی پڑھیں:
      پاکستان میں الگ اسلامی ملک بنانے کی تیاری میں TTP، گھبرائی شہباز حکومت نےاٹھایا یہ بڑا قدم

      بتادیں کہ گزشتہ ہند۔انڈونیشیا جے سی ایم کی مشترکہ صدارت جئے شنکر اور مارسوڈی نے 13 دسمبر 2019 کو نئی دہلی میں کی تھی۔ اس میٹنگ میں بھی دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔ یہ ظاہر ہے کہ ہندوستان اور انڈونیشیا گہرے سمندری پڑوسی ہیں۔ ایسے میں انہوں نے انڈومان نکوبار-اچیہہ کو مضبوط کرنے پر ور دیا اور ایسی ہی میٹنگوں کو آگے بھی منعقد کرنے پر اتفاق ظاہر کیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: