உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Big News: سلمان رشدی پر حملہ کو لے کر وزیر خارجہ نے کہا: اس واقعہ پر پوری دنیا نے غور کیا ہے

    Big News: سلما رشدی پر حملہ کو لے کر وزیر خارجہ نے کہا: اس واقعہ پر پوری دنیا نے غور کیا ہے ۔ فائل فوٹو ۔

    Big News: سلما رشدی پر حملہ کو لے کر وزیر خارجہ نے کہا: اس واقعہ پر پوری دنیا نے غور کیا ہے ۔ فائل فوٹو ۔

    S Jaishankar, Author Salman Rushdie: بین الاقوامی سطح پر مذمت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر پوری دنیا نے غور کیا ہے اور لوگوں نے اپنے ردعمل کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ بات انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔

    • Share this:
      نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہفتہ کے روز ہندوستانی نژاد رائٹر سلمان رشدی پر نیویارک میں ہوئے حملے پر ردعمل ظاہر کیا۔ بین الاقوامی سطح پر مذمت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر پوری دنیا نے غور کیا ہے اور لوگوں نے اپنے ردعمل کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ بات انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ سلمان رشدی پر ہوئے حملے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جس پر پوری دنیا نے غور کیا ہے اور پوری دنیا اس حملے پر ردعمل کا اظہار کر رہی ہے۔ فرانس، برطانیہ اور امریکہ ان ممالک میں شامل ہیں، جنہوں نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: وینٹی لیٹر پر Salman Rushdie، ایک آنکھ خراب، جگر بھی خراب


      اس حملے کے ردعمل میں فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ سلمان رشدی نے آزادی اور فحاشی کے خلاف جنگ کو مجسم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رشدی کی "لڑائی ہماری لڑائی ہے" اور اب پہلے سے کہیں زیادہ ہم ان کی طرف کھڑے ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: سلمان رشدی پر تابڑتوڑ حملے کرنے والے حملہ Hadi Matar کے بارے میں 5 باتیں


      بتادیں کہ سلمان رشدی پر اس وقت حملہ ہوا جب وہ نیویارک میں ایک اسٹیج پر تقریر کر رہے تھے۔ وہ اس وقت وینٹی لیٹر پر ہیں۔ جانکاری کے مطابق ان کی ایک آنکھ میں شدید چوٹ آئی ہے اور وہ ایک آنکھ گنوا سکتے ہیں۔ رشدی کے ایک لیور پر بھی گہری چوٹیں آئی ہیں ۔

      سلمان رشدی کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی حالت تشویشناک ہے۔ وہ کچھ بولنے سے قاصر ہیں۔ ساتھ بتایا کہ چاقو سے حملے میں ان کے ہاتھ کے نسیں بھی کٹ گئی ہیں۔ وائلی نے کہا کہ رشدی کی حالت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ خبر اچھی نہیں ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: