உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جامع مسجد میں لڑکیوں کے داخلے پر پابندی، ترجمان نے کہا’اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ آکر نامناسب حرکات کرتی ہیں لڑکیاں‘

    جامع مسجد (فائل فوٹو)

    جامع مسجد (فائل فوٹو)

    جامع مسجد کے پی آر او صبیح اللہ خان نے کہا، خواتین کا داخلہ ممنوع نہیں ہے، جب لڑکیاں اکیلے آتی ہیں تو نامناسب حرکات کرتی ہیں۔ویڈیو شوٹ کرتی ہیں۔ اسے روکنے کے لیے پابندی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں لڑکیوں کے داخلے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ مسجد انتظامیہ نے تینوں انٹری گیٹ پر ایک نوٹس بورڈ لگادیا ہے جس میں لکھا ہے، جامع مسجد میں لڑکیوں کا اکیلے داخل ہونا منع ہے۔‘ مطلب کہ لڑکی کے ساتھ اگر کوئی محرم (مرد سرپرست) نہیں ہے، تو انہیں مسجد میں داخلہ نہیں ملے گا۔ اس کو لے کر تنازعہ پیدا ہوتا نظر آرہا ہے۔

      دہلی خواتین کمیشن کی صدر سواتی مالیوال نے جامع مسجد انتطامیہ کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے چیف امام کو نوٹس جاری کرنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا، جامع مسجد میں خواتین کی انٹری روکنے کا فیصلہ بالکل غلط ہے۔ جتنا حق ایک مرد کو عبادت کا ہے، اتنا ہی ایک خاتون کو بھی ہے۔ میں جامع مسجد کے امام کو نوٹس جاری کررہی ہوں۔ اس طرح خواتین کی انٹری بین کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے۔


      یہ بھی پڑھیں:
      بالی ووڈ کے معروف اداکار وکرم گوکھلے کی موت کی خبربے بنیاد،اہل خانہ کابیان

      یہ بھی پڑھیں:
      ڈاکٹر مریم عفیفہ انصاری بنی ہندوستان کی پہلی مسلم نیورو سرجن! یہ ہے کامیابی کا سفر، جانیے

      دوسری جانب، جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے واضح کیا ہے کہ نماز پڑھنے کے لئے آنے والی خواتین کو نہیں روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’ایسی شکایتیں آرہی تھیں کہ لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مسجد میں آتی ہیں۔ اگر کوئی خاتون جامع مسجد آنا چاہتی ہے، تو اسے فیملی یا شوہر کے ساتھ آنا ہوگا۔ اگر نماز پڑھنے کی خاطر آتی ہے تو اسے نہیں روکا جائے گا۔ جامع مسجد کے پی آر او صبیح اللہ خان نے کہا، خواتین کا داخلہ ممنوع نہیں ہے، جب لڑکیاں اکیلے آتی ہیں تو نامناسب حرکات کرتی ہیںِ ویڈیو شوٹ کرتی ہیں۔ اسے روکنے کے لیے پابندی ہے۔ خاندان/شادی شدہ جوڑوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ مذہبی مقامات کو نامناسب سرگرمیوں کا سینٹر بنانا نہیں چاہیے۔ اس لیے پابندی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: