ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

ائمہ اور موذنین کی ماہانہ اعزازیہ رقم میں اضافہ کیا جائے، جماعت اہل سنت کرناٹک کا مطالبہ

جماعت اہل سنت کرناٹک نے ائمہ کرام اور موذنین کے معاشی مسائل کے حل کیلئے حکومت سے نمائندگی کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاست کے معروف عالم دین مولانا سید محمد تنویر پیراں ہاشمی کی قیادت میں جماعت اہل سنت کرناٹک کے وفد نے محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری ابراہیم اڈور سے ملاقات کی۔

  • Share this:
ائمہ اور موذنین کی ماہانہ اعزازیہ رقم میں اضافہ کیا جائے، جماعت اہل سنت کرناٹک کا مطالبہ
ائمہ، موذنین کی ماہانہ اعزازیہ رقم میں اضافہ کیا جائے، جماعت اہل سنت کرناٹک کا مطالبہ

بنگلورو: جماعت اہل سنت کرناٹک نے ائمہ کرام اور موذنین کے معاشی مسائل کے حل کیلئے حکومت سے نمائندگی کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاست کے معروف عالم دین مولانا سید محمد تنویر پیراں ہاشمی کی قیادت میں جماعت اہل سنت کرناٹک کے وفد نے محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری ابراہیم اڈور سے ملاقات کی۔ بنگلورو میں کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے مرکزی دفتر میں ہوئی اس ملاقات کے دوران جماعت اہل سنت نے محکمہ اقلیتی بہبود، حج اور اوقاف کو ائمہ کرام اور موذنین کے سلسلے میں یادداشت پیش کی۔ جماعت کے صدر مولانا سید محمد تنویر پیراں ہاشمی نے کہا کہ ائمہ کرام اور موذنین اعلی مقام پر فائز رہتے ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے یہ ہے کہ ان کی معاشی حالت کی جانب بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ مولانا تنویر پیراں ہاشمی نے کہا کہ  حکومت کی جانب سے گزشتہ چند سالوں سے پیش ائمہ اور موذنین کو ماہانہ اعزازیہ دیا جارہا ہے، لیکن اعزازیہ کی یہ  رقم کسی بھی خاندان کے گزارے کیلئے بالکل نا کافی نہیں ہے۔


واضح رہے کہ کرناٹک میں ریاستی حکومت، وقف بورڈ کے ذریعہ، پیش امام کو ماہانہ 4 ہزار اور موذن کو 3 ہزار روپئے کی رقم بطور اعزازیہ دے رہی ہے۔ فی الوقت ریاست بھر میں 7233 ائمہ کرام  اور 7017 موذنین کو اعزازیہ دیا جارہا ہے۔ صرف ریاستی وقف بورڈ کے تحت رجسٹرڈ مساجد کے پیش امام اور موذن کیلئے یہ اسکیم نافذ کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والی اعزازیہ کی رقم کو وقف بورڈ راست طور پر منتخب پیش ائمہ اور موذنین کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرتا ہے۔

جماعت اہل سنت کرناٹک کے صدر مولانا سید محمد تنویر پیراں ہاشمی نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیش امام کو کم از کم 10 ہزار روپئے، نائب امام کو 9 ہزار روپئے اور موذن کو کم سےکم  8 ہزار روپئے ماہانہ اعزازیہ دیا جائے۔ مولانا سید محمد تنویر نے کہا کہ فی الوقت حکومت صرف پیش امام اور موذن کو اعزازیہ دے رہی ہے۔ ہر مسجد میں نائب امام کی بھی ضرورت اور اہم ذمہ داری رہتی ہے۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں اس اسکیم میں وقف بورڈ نائب امام کو بھی شامل کرے۔


کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے مرکزی دفتر میں ہوئی اس ملاقات کے دوران جماعت اہل سنت نے محکمہ اقلیتی بہبود، حج اور اوقاف کو ائمہ کرام اور موذنین کے سلسلے میں یادداشت پیش کی۔
کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے مرکزی دفتر میں ہوئی اس ملاقات کے دوران جماعت اہل سنت نے محکمہ اقلیتی بہبود، حج اور اوقاف کو ائمہ کرام اور موذنین کے سلسلے میں یادداشت پیش کی۔


جماعت اہل سنت کے جنرل سکریٹری مولانا مفتی محمد علی قاضی نے کہا کہ ماہانہ اعزازیہ کی رقم میں اضافہ کے ساتھ ساتھ دو اور اہم مطالبات محکمہ اقلیتی بہبود کے سامنے پیش کئے گئے ہیں۔ تمام ائمہ کرام اور موذنین اور ان کے اہل خانہ کیلئے ہیلتھ کارڈ جاری کیا جائے تاکہ سرکاری اور غیر سرکاری اسپتالوں میں انہیں مفت طبی سہولیات حاصل ہوسکیں۔ مولانا مفتی محمد علی قاضی نے کہا پیش امام اور موذنین کیلئے مستقل رہائش گاہ کا مسئلہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ مساجد کمیٹیوں کے گھروں میں یا پھر کرائے کے گھروں میں زیادہ تر ائمہ اور موذنین قیام پذیر رہتے ہیں۔ لہٰذا حکومت اور کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کو چاہئے کہ وہ ہاوزنگ اسکیم کے تحت تمام ائمہ اور موذنین کو مکانات فراہم کرے۔ یہ مطالبہ بھی تحریری طور پر محکمہ اقلیتی بہبود، حج اور اوقاف کو پیش کیا گیا ہے۔ جماعت اہل سنت کرناٹک کے وفد کی اس ملاقات کے موقع پر محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری ابراہیم اڈور، کرناٹک وقف بورڈ کے سی ای او محمد یوسف اور دیگر افسران موجود تھے۔سکریٹری ابراہیم اڈور نے بھروسہ دیا کہ وہ جماعت اہل سنت کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات اور تجاویز کو حکومت کے سامنے رکھیں گے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 29, 2020 11:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading