ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جماعت اسلامی ہند  نے کی زرعی آرڈیننس اور بلوں کی مخالفت، مرکزی حکومت سے کیا یہ بڑا مطالبہ

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں پارلیمنٹ میں پاس کئے گئے تینوں بل کی مخالفت کرتی ہے۔ کیونکہ وہ بل استحصالی اور کسانوں کے مفاد کے خلاف ہیں۔ ان بلوں کے نتیجے میں کاشتکاروں کے لئے فصلوں کی قیمتیں کم ہوجائیں گی۔

  • Share this:
جماعت اسلامی ہند  نے کی زرعی آرڈیننس اور بلوں کی مخالفت، مرکزی حکومت سے کیا یہ بڑا مطالبہ
جماعت اسلامی ہند  نے کی زرعی آرڈیننس اور بلوں کی مخالفت

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں پارلیمنٹ میں پاس کئے گئے تینوں بل کی مخالفت کرتی ہے۔ کیونکہ وہ بل استحصالی اور کسانوں کے مفاد کے خلاف ہیں۔ ان بلوں کے نتیجے میں کاشتکاروں کے لئے فصلوں کی قیمتیں کم ہوجائیں گی۔ نیز فوڈ سیکورٹی شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔ کیونکہ حکومت کی مداخلت ختم ہوجائے گی۔ ہندوستانی اشیائے خوردنی اور کھیتی باڑی کا نظام لالچی کارپوریٹس، ملٹی نیشنلز اور مارکیٹ فورسز کے تابع ہوجائے گا۔ اس طرح سے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے بڑھ جانے سے کسانوں کے استحصال میں اضافہ ہوجائے گا۔


کسانوں کو ایم ایس پی (مینیمم اسپورٹ پرائس) سے کم قیمت پر اپنی فصلیں لوکل مارکیٹ میں بیچنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ وہ خود سے اپنی پیداوار کو دور دراز کے فاصلے تک نہیں بھیج پائیں گے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ایف سی آئی (فوڈ کارپوریشن آف انڈیا)، ایم ایس پی (مینیمم اسپورٹ پرائس) اور پی ڈی ایس (پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم) انفراسٹرکچر کو کمزور اور ختم کرنا چاہتی ہے۔ یہ حکومت شعبہ زراعت کی لگام ایسی طاقتوں کے ہاتھوں میں سونپنا چاہتی ہے، جو اس استحصال اور منافع کے سلسلے کو برقرار رکھے۔


جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں پارلیمنٹ میں پاس کئے گئے تینوں بل کی مخالفت کرتی ہے۔ کیونکہ وہ بل استحصالی اور کسانوں کے مفاد کے خلاف ہیں۔ فائل فوٹو- فیس بک
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں پارلیمنٹ میں پاس کئے گئے تینوں بل کی مخالفت کرتی ہے۔ کیونکہ وہ بل استحصالی اور کسانوں کے مفاد کے خلاف ہیں۔ فائل فوٹو- فیس بک


ہم مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس کسان مخالف قانون کو واپس لے اور ایسی پالیسیاں نافذ کرے جو مستقل طور پر ان کی آمدنی میں اضافہ کرے۔ خوراک اور بیج کی سیکورٹی کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ زمین کی مالکانہ اصلاحات کا احترام کرے نیز زرعی منڈیوں کی روایتی تجارت کو بحال رکھتے ہوئے اس میں مزید سہولیات کا اضافہ کرے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ کسانوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور ان کےخدشات اور اندیشوں کو دور کرے اور یہ بل واپس لے۔ نیز ان کے نمائندوں سے گفتگو کرے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 19, 2020 10:32 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading