ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جماعت اسلامی ہندنے ایڈووکیٹ محمود پراچہ کے دفتر پر چھاپے کی مذمت کی

نائب امیر جماعت نے سرکاری ایجنسی کی جانب سے چھاپہ ماری کلچر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی پالیسیوں اور اقدامات کی مخالفت کرنے والوں کو ڈرانے کے لئے مختلف ایجنسیوں کا غلط استعمال کررہی ہے۔ جبکہ ہمارے آئین میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری اداروں کو آزاد رکھا گیا ہے اور انہیں ایگزیکٹیو کنٹرول سے باہر رہنے کا حکم دیا گیاہے۔

  • Share this:
جماعت اسلامی ہندنے ایڈووکیٹ محمود پراچہ کے دفتر پر چھاپے کی مذمت کی
جماعت اسلامی ہندنے ایڈووکیٹ محمود پراچہ کے دفتر پر چھاپے کی مذمت کی

جماعت اسلامی ہند گزشتہ دنوں ایڈووکیٹ محمود پراچہ کے دفتر پر دہلی پولیس (اسپیشل سیل) کے ذریعہ چھاپہ مارنے کی مذمت کرتی ہے ۔ یہ باتیں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر محمد سلیم انجینئر نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ پراچہ شمال مشرقی دہلی فسادات کے بہت سے متاثرین اور سی اے اے کے خلاف احتجاج میں کردار ادا کرنے کی وجہ سے ناجائز طور پر گرفتار کیے گئے افراد کے لیے مقدمات لڑ رہے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ یہ چھاپہ ماری انتقام اورخوف پیدا کرنے کے مقصد سے انجام دی گئی ہے۔ اس حالیہ گرفتاری سے دہلی پولیس کا ایک خاص رجحان نمایاں ہوتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پولیس اپنے اس عمل کے ذریعہ یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ پولیس کے ہاتھوں بربریت اور نا انصافی کا شکار ہونے والے افراد  کے لئے لڑنے والوں کو پوچھ گچھ، چھاپوں اور گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔


نائب امیر جماعت نے سرکاری ایجنسی کی جانب سے چھاپہ ماری کلچر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی پالیسیوں اور اقدامات کی مخالفت کرنے والوں کو ڈرانے کے لئے مختلف ایجنسیوں کا غلط استعمال کررہی ہے۔ جبکہ ہمارے آئین میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری اداروں کو آزاد رکھا گیا ہے اور انہیں ایگزیکٹیو کنٹرول سے باہر رہنے کا حکم دیا گیاہے۔لیکن حالیہ واقعات سے لگتا ہے کہ ان آئینی اصولوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ بہت سے سینئر وکلاء نے اس چھاپے کی مذمت کی ہے اور اسے قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔


جماعت اسلامی ہند امید کرتی ہے کہ تمام انصاف پسند لوگ ایڈووکیٹ پراچہ کے دفتر پر چھاپے کی مذمت کریں گے اورپولیس مزید من مانی اور ہراساں کرنے کے عمل سے باز رہے گی ۔

Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 26, 2020 11:50 PM IST