ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی فسادات پر پریس کانفرنس کے ذریعہ دہلی پولیس پر جم کر برسی جماعت اسلامی ہند

جماعت اسلامی ہند نے آن لائن پریس کانفرنس میں نیوز 18 کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو عدالت لے جانے کا گرچہ اس سمت میں ابھی کام نہیں کیا گیا ہے، لیکن اگرکوئی دوسرا گروپ کمیشن کی رپورٹ کو سپریم کورٹ یاہائی کورٹ میں نہیں لے جاتا ہے تو جماعت اسلامی اس پہلو پر غور کرے گی۔

  • Share this:
دہلی فسادات پر پریس کانفرنس کے ذریعہ دہلی پولیس پر جم کر برسی جماعت اسلامی ہند
دہلی فسادات پر پریس کانفرنس کے ذریعہ دہلی پولیس پر جم کر برسی جماعت اسلامی ہند

نئی دہلی: دہلی فسادات کو لے کر دہلی اقلیتی کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ دہلی پولیس کے لئے درد سربنتی نظر آرہی ہے۔ مسلسل اس رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے دہلی پولیس کے فساد میں رول کی کی آوازیں اٹھائی جارہی ہیں۔ حال ہی میں دہلی کانگریس کے صدر چودھری انل کمار کے ذریعہ کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تو وہیں اب جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی دہلی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ کو عدالت میں لے جانے پر غور کرسکتی ہے۔ انھوں نے آن لائن پریس کانفرنس میں نیوز 18 کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس سمت میں ابھی کام نہیں کیا گیا ہے، لیکن اگرکوئی دوسرا گروپ کمیشن کی رپورٹ کو سپریم کورٹ یاہائی کورٹ میں نہیں لے جاتا ہے تو جماعت اسلامی اس پہلو پر غور کرے گی۔ انجینئر محمد سلیم نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جماعت اسلامی کاماننا ہے کہ شمالی مشرقی دہلی میں فساد ہوا نہیں بلکہ کرایا گیا تھا اور ایک خاص طبقہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہیں سبق سکھایا گیا۔ نائب امیر جماعت نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ میں کئی سوال دہلی پولیس اور فساد کو لے کر اٹھائے گئے ہیں۔ دہلی حکومت اور خاص طور سے مرکزی وزارت داخلہ کو کمیشن کی رپورٹ پر ایکشن لینا چاہئے، ہم اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔


دہلی پولیس کے کردارکی جانچ ہو


انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بہت سے کیس رجسٹرڈ نہیں کئے گئے تو کافی کیس ایسے ہیں، جن کو الگ لگ سے درج کرکے ایف آئی آر کئے جانے کی ضرورت ہے، لیکن ایسانہیں کیا گیا ہے۔ اس لئے دہلی کے فساد کے دوران کردارکی جانچ ہونی چاہئے۔ کیونکہ ایسی شکایات آئی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس خود فساد میں شامل تھی۔ کمیشن کی رپورٹ میں جانچ کمیٹی بنائے جانے کی بات ہے، ہم ان سفارشات کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج میں شامل لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ جب جانچ ہورہی ہے تو شفاف اور انصاف پسندی پر مبنی جانچ ہو۔


انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بہت سے کیس رجسٹرڈ نہیں کئے گئے تو کافی کیس ایسے ہیں، جن کو الگ لگ سے درج کرکے ایف آئی آر کئے جانے کی ضرورت ہے، لیکن ایسانہیں کیا گیا ہے۔ اس لئے دہلی کے فساد کے دوران دہلی پولیس کے کردار کی جانچ ہونی چاہئے۔
انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بہت سے کیس رجسٹرڈ نہیں کئے گئے تو کافی کیس ایسے ہیں، جن کو الگ لگ سے درج کرکے ایف آئی آر کئے جانے کی ضرورت ہے، لیکن ایسانہیں کیا گیا ہے۔ اس لئے دہلی کے فساد کے دوران دہلی پولیس کے کردار کی جانچ ہونی چاہئے۔


پرائیوٹ اسکولوں اور اساتذہ کو ملے پیکیج

کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں تعلیم کا شعبہ بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے 20 لاکھ کروڑ روپئے کا پیکیج دیا گیا ہے۔ تاہم اس پیکیج میں قرض کو شامل کیا گیا ہے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت لوگوں کی سیدھے مدد کرے اور ان کو نقد رقم دے۔ خاص طور سے تعلیم کے شعبہ میں پرائیوٹ اسکولوں کی حالت خراب ہے، وہ اپنے اساتذہ کو تنخواہیں نہیں دے پا رہے ہیں۔ ایسے میں سرکار کو چاہئے کہ پرائیوٹ اسکولوں اور اساتذہ کے لئے پیکیج کا اعلان کرے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 25, 2020 05:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading